Tag Archives: Pakistan

!میرا دل، میری جان، پاکستان پاکستان

اگست 1947 ایک سبز ہلالی پرچم دنیا کے نقشے پر اُبھرا، ایک ایسی مملکت جس کے حصول کے لیے لاکھوں لوگوں نے جانیں قربان کیں لیکن آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ قائد کی انتھک محنت، کاوش اور قربانیوں کا زندہ پیکر، اے سوہنی دھرتی تیری آزاد اور پاک فضائیں ہی تو بھاتی ہیں تیرے متوالوں کو، تیرے بیٹے سرحدوں پار اور سرحدوں کے اندر بھی دہشت گردوں اور تیرے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔

تیرے گلستان، پربت، جھیل، دریا تیرے حسن و پاکیزگی کے عکاس ہیں۔ اس آزادی کو محسوس کرو ان پاک فضاؤں میں، اس مٹی کی سوندھی مہک میں رب کا شکر ادا کرو۔ اس بیش قیمت نعمت کے لئے، اے عزیزِ من سب پاکستانیوں کا عزم ہے تیری سلامتی اور تیری ترقی، آزادی کاجشن برپا ہے اس وطن کی گلیوں، محلوں میں، آزادی کی خوشی عیاں ہے ان سبز پوشاکوں ان چمکتے چہروں سے ۔

یہ ذوق یہ شوق، میرے وطن تیرے جشن منانے کے لئے ہم سجائیں گے اس ارضِ زمیں کو، خود کو، یہ تیاریاں، سجاوٹ آزادی کا احساس ہی تو ہیں۔

اس جھنڈے سے اب قوم کی لاج ہے، اس جھنڈے پہ سب کی نظر آج ہے

جان سے کیوں نہ ہم کو یہ پیارا رہے، چاند روشن چمکتا ستارہ رہے

تو ہی تو ہے میرا گھر، میرے چمن، میرے وطن، میرے مقدر میں ہے ارضِ پاک پر بکھرا میرا رزق ۔۔۔

میں پاکستانی ہوں، تن سے بھی اور من سے بھی، میرا دل، میرا چہرہ پاکستانی، میرا پہنا وا، سج دھج بھی پاکستانی

آزادی ایک جنون، ایک جہدِ مسلسل، منتقل کرنا ہے مجھے، اپنی نسل کو شعور دینا ہے ارضِ پاک سے محبت کا، تعمیر کا

میرا دل، میری جان پاکستان، میری پہچان، میری شان، نثار تجھ پر جان، سدا جیوے میرا پیارا پاکستان

اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے یہ وطن، یہ آزادی تیری جہدوجہد، کاوشوں کا مظہر ہے، اے قائد تجھے سلام

یہ سبز پہناوا ہی تو پہچان ہے، میری آرائش کا سامان، کیوں نہ اس رنگ میں ہی سب رنگ جائیں، بچے، بوڑھے اور جوان

نثار تیری گلیوں کے اے وطن، یہ رونق، یہ شادمانی، اے پاک دھرتی کسی دشمن کے کی میلی نظر ان چمکتے چہروں پر نہ پڑے، سلامت رہیں تیرے بیٹے

ہوا کے دوش پر لہراتا یہ سبز ہلالی پرچم سدا اونچا ہی رہے گا، تیرے رکھوالے اس پرچم کو سر بلند رکھنے کے لئے ہیں پرعزم۔

قدر کیجیے کہ پاکستان ایک نعمت ہے!

 

ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکمرانوں کوٹھہراتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں منتخب کرکے ایوانوں میں بھی ہم ہی بھیجتے ہیں۔

یار! یہاں کا سارا سسٹم ہی خراب ہے۔ خدا کی قسم! نفل ادا کروں گا جب اس ملک سے جان چھوٹے گی میری، عاصم جو ایم ایس سی کا امتحان تو پاس کرچکا تھا مگر ڈگری حاصل کرنے کے لیے پچھلے دو ماہ سے خوار ہو رہا تھا اور اپنے دوست طاہر سے مخاطب تھا جو اُس کا کلاس فیلو بھی تھا۔

کیا ہوگیا ہے یار! بھلا اپنے ہی ملک کے بارے میں کوئی ایسے بولتا ہے کیا؟ تو اورکیا کہوں؟ سب کچھ تیرے سامنے ہی ہے کہ کیسے اپنی ہی ڈگری حاصل کرنے کے لیے کس قدر اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہمیں، جیسے ہم یہ ڈگری امتحان پاس کرکے نہیں بلکہ پیسے دے کر لے رہے ہوں۔ میں بھی تو دو ماہ سے تیرے ساتھ ہی خوار ہو رہا ہوں، مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں اپنے ہی ملک کو کوسنا شروع کردوں۔ طاہر، عاصم کے خیالات سے ہرگز متفق نہیں تھا۔ دو دن بعد آخری تاریخ ہے اسکالر شپ کے فارم جمع کروانے کی، اگر آج بھی ڈگری نہ ملی تو گئے کام سے، اللہ اللہ کرکے اس ملک سے نکلنے کا موقع مل رہا ہے اور میں یہ موقع کسی صورت بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ یار! ایسے بول رہا ہے جیسے تونے پی ایچ ڈی مکمل کرکے پاکستان واپس آنا ہی نہیں ہے۔ طاہر نے ہنستے ہوئے کہا۔ بالکل درست اندازہ لگایا ہے تو نے، میں اتنی جدوجہد پاکستان واپس آنے کے لیے نہیں کر رہا ہوں۔ عاصم نے سنجیدگی سے کہا۔

حلف نامہ جو جمع کرارہے ہو اُس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ میں اپنی تعلیم مکمل کرکے پاکستان واپس آؤں گا اور پانچ سال تک یہاں کے اداروں میں نوکری کروں گا، اُس کا کیا؟ وہ سب تو کاغذی کارروائی ہے، اُسے کون پوچھتا ہے، یار! اور جو ضمانت دینی ہے، وہ؟ طاہر کو اُس کی باتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ ہم پاکستان میں رہتے ہیں یار، یہاں بس جیب میں پیسہ ہونا چاہیے ہر مشکل حل ہوجاتی ہے۔ بس دعا کرو کہ کسی طرح مجھے یہ اسکالر شپ مل جائے، پھر نہیں میں دوبارہ پاکستان میں قدم رکھنے والا۔ کہیں بھی چلا جا، کہلائے گا تو آخر پاکستانی ہی ناں۔ طاہر کے لہجے میں اب طنز تھا۔ کب تک، آخر کب تک؟ صرف دوسرے ملک کا پاسپورٹ ملنے کی دیر ہے، پھر کونسا پاکستان اور کون پاکستانی، پھر یہ داغ بھی دھل جائے گا۔ داغ؟ کیا تیرے لیے پاکستانی ہونا ایک داغ ہے، آخرکیا خرابی ہے اس ملک میں؟

تمھارے پاکستان میں ڈھنگ کی کوئی نوکری نہیں، اور تو کہتا ہے کہ کیا خرابی ہے اس ملک میں۔ تیرے ابّو نے اپنی پوری ملازمت کے دوران ایک مرتبہ بھی رشوت نہیں لی، اور اُنہیں اس ایمانداری کا کیا صلہ دیا گیا؟ اُنہیں رشوت لینے کے جرم میں نوکری سے برخاست کر دیا گیا، اور تجھے اس ملک میں سب اچھا نظر آتا ہے۔ یہاں جس کے پاس جتنی زیادہ دولت ہے اُس کی اُتنی زیادہ عزت ہے۔ یہ ملک صرف طاقتوروں، دولتمندوں اور لٹیروں کو نوازتا ہے، ہمارے جیسوں کو تو اپنا حق لینے کے لیے بھی ایڑیاں رگڑنا پڑتی ہیں اور تجھے پھر بھی اس ملک میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔ عاصم جذباتی ہوگیا تھا۔ اس میں قصور پاکستان کا نہیں، ہمارا اپنا ہے۔ یہ ملک ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیوں سے حاصل کیا تھا، یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے ان قربانیوں کی قدر نہ کی۔ اگر ہم ٹھیک ہوجائیں تو یہ ملک خود بخود ہی جنت بن جائے گا۔ ابھی یہ بحث نہ جانے اور کتنی دیر چلتی کہ ایک ادھیڑ عمر کلرک نے آکر آواز لگائی، اپنی ڈگریاں ایڈمن آفس سے وصول کرلیں، اور دونوں اپنی بحث چھوڑ کر ایڈمن آفس کی طرف چل پڑے۔

عاصم کو اُس کی محنت سے حاصل کی ہوئی ڈگری بھی مل گئی اور امریکہ کی اسکالرشپ بھی، امریکہ پہنچ کر اُسے ایسا لگا جیسے وہ دوزخ سے نکل کر اچانک جنت میں آگیا ہو، بالکل ویسے ہی جیسا اُس نے ہمیشہ سے چاہا تھا، اُسے اپنی قسمت پر رشک آرہا تھا۔ وقت گزرتا گیا، طاہر نے پاکستان میں مقابلے کا امتحان پاس کیا اور پولیس کا محکمہ جوائن کرلیا، عاصم کی تعلیم کا بھی امریکہ میں آخری سال تھا، مگر اُس کا پلان کے عین مطابق پاکستان واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ یونیورسٹی میں عاصم کا ایک کلاس فیلو تھا جس کا نام جتندرکمار تھا، جتندر بھی انڈیا سے اسکالر شپ پر پڑھنے کے لیے آیا تھا۔ ایک دن عاصم کو یونیورسٹی کے کسی کام میں مدد کے سلسے میں اُس کے روم میں جانا پڑگیا۔  جتندر کے روم کا دروازہ تقریباََ کھلا ہی تھا، جب ایک دو مرتبہ دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود بھی جتندر باہر نہ آیا تو عاصم بغیر اجازت کے ہی اندر داخل ہو گیا۔ سامنے کا منظر عاصم کے لیے ناقابلِ یقین تھا، جتندر کمار زمیں پر جائے نماز بچھائے عشاء کی نماز پڑھنے میں مصروف تھا، ساتھ ہی ایک اسٹینڈ پر قرآن شریف رکھا تھا۔

آپ کب آئے؟ جتندر کی آواز نے سوچوں میں گم عاصم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ہاں۔۔۔ بس ابھی، کیا آپ نماز پڑھ رہے تھے؟ عاصم نے فوراََ ہی وہ سوال پوچھ ڈالا جس نے اسے پچھلے کچھ لمحوں سے مخمصے میں ڈال رکھا تھا۔ کیا آپ مسلمان ہیں؟ بھائی مسلمان ہوں تو نماز پڑھ رہا ہوں، جتندر نے کولڈ ڈرنک کا گلاس عاصم کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ آپ کا نام تو، الفاظ عاصم کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ میرا نام مسلمانوں والا نہیں، یہی ناں؟ دراصل یہ نام میرے بابا نے رکھا ہی اس وجہ سے تھا کہ مجھے اپنے نام کی وجہ سے کبھی کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ رکاوٹ؟ رکاوٹ کیسی؟ جتندر کی بات بالکل بھی عاصم کے پلّے نہیں پڑی تھی۔

بھائی آپ خوش قسمت ہیں کہ تقسیم کے وقت آپ کے بزرگوں نے پاکستان کا انتخاب کیا، اور ہمارے بڑے، وہ تو تھے ہی قیامِ پاکستان کے مخالف، ہمارے بڑوں نے بہت سے اور مسلمانوں کی طرح بھارت میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ مسلمانوں کے لیے تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ میرے بابا انجینئر تھے، مگر اپنی ساری زندگی ایک معمولی سے مکینک کی حیثیت سے کام کرتے گزار دی، اُنہیں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے نوکری نہیں ملی۔ میرے چچا یونیورسٹی میں پڑھتے تھے، ایک دن ساتھی طلباء سے کسی بات پربحث ہوگئی۔ اگلے ہی دن سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ اہلکار ہمارے گھر آئے اور چچا کوزبردستی اُٹھا کرلے گئے، چند دن بعد ہمیں اطلاع دی گئی کہ ہمارے چچا پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں مارے گئے ہیں ۔

تو اگر ہندوستان میں رہ کر ہندوستان کے خلاف اس طرح بولتا تو تجھے معلوم پڑجاتا کہ ہمارے بڑوں نے یہ وطن حاصل کرنے کے لیے اتنی قربانیاں کیوں دی تھیں، طاہر کے الفاظ عاصم کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ ابھی پچھلے دنوں ہی ہمارے محلے کی ایک مسلمان لڑکی کو چند اوباشوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کردیا. سب جانتے ہیں کہ ایسا کس نے کیا، اور اُن کا مذہب کیا تھا، گجرات کا ہندو مسلم فساد کسے یاد نہیں، میرے بابا نے میرا نام صرف اس لیے ہندؤں والا رکھ دیا تاکہ مجھے بھی اُن کی طرح مسلمان ہونے کی وجہ سے ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میرے بابا کا یقین تھا کہ اگر بھارت میں ہمارے لئے کچھ ہوتا تو محمد یوسف خان کو مشہور ہونے کے لیے دلیپ کمار نہ بننا پڑتا۔ جتندر کی بات ابھی جاری تھی مگر عاصم میں سننے کی مزید سکت نہیں تھی، وہ چپ چاپ اُٹھ کر کمرے سے باہر آگیا۔

screenshot-www express pk 2015-08-19 12-02-34 screenshot-www express pk 2015-08-19 12-03-07 screenshot-www express pk 2015-08-19 12-02-49

آج اُسے آزادی کا مطلب بھی سمجھ آ گیا تھا اور پاکستان کی اہمیت کا احساس بھی ہوگیا تھا۔ آج شعور کی آنکھ کھلی تو اُسے امریکہ میں بھی سب کچھ بدلا بدلا سا نظرآ رہا تھا، یہاں قانون کی بالادستی صرف اس وجہ سے ہے کیونکہ یہاں کے لوگ قانون کا احترام کرتے ہیں، اور ہم بھی صرف ان جیسے ملکوں میں آ کر ہی قانون کا احترام سیکھتے ہیں ورنہ پاکستان میں تو ہر چیز کا شارٹ کٹ ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اگر پاکستان میں ہم پر چھوٹا سا بھی ٹیکس نافذ کردیا جائے تو ہم سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ مگر یہاں ہمیں سب اچھا ہی نظر آتا ہے۔ ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکمرانوں کو تو ٹھہراتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان حکمرانوں کو منتخب کرکے ایوانوں میں بھی تو ہم خود ہی بھیجتے ہیں۔ میں آج جس مقام پر ہوں وہ بھی تو پاکستان کی وجہ سے ہی ہے، جس تعلیم کی بنیاد پر مجھے یہ اسکالرشپ ملا وہ بھی تو میں نے پاکستان میں رہ کر ہی حاصل کی تھی۔ عاصم کو سمجھ آ گیا تھا کہ ہم دوسروں سے پیچھے کیوں ہیں، ہماری اس حالت کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ ہم خود ہیں، ہمارے پیارے وطن نے تو ہمیں سب کچھ دیا مگر ہم ہی ناشکرے ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان میں صرف خامیاں ہی تلاش کیں۔

ابھی وہ ان سوچوں میں ہی گم تھا کہ پاکستان سے طاہر کا SMS آگیا، جشنِ آزادی مبارک۔ مجھے تو یاد بھی نہیں تھا کہ آج 14 اگست ہے، ان چار سالوں میں میں کتنا بدل گیا ہوں کہ اپنی آزادی کا دن بھی بھول گیا۔ اُسے اپنے آپ سے شرم آ رہی تھی۔ بس یار Phd تو کمپلیٹ ہوگئی ہے مگر یونیورسٹی والے کہتے ہیں کہ ڈگری دو ماہ بعد ملے گی، عاصم فون پر طاہر کو ہنستے ہوئے بتا رہا تھا۔ بس اِدھر ڈگری ملی، اُدھر میں اپنے ’’پاکستان‘‘ آنکھوں سے آنسو رواں تھے مگر دل سے بوجھ اُتر چکا تھا۔

’’پاکستان زندہ باد‘‘

The dark scar of Pakistan’s history and Republic of Bharat! – Part 1

The dark scar of Pakistan’s history and Republic of Bharat! – Part 1

modi

I was browsing Twitter one night before sleeping when I saw it was buzzing with tweets by jubilant Indians with the hashtag #ModiInBangladesh. They were happy as India sealed a historical ‘Land swapping’ deal with Bangladesh followed by many other agreements. The 36-hour long visit by Indian Premier Narendra Modi to Bangladesh was actually a pre planned ‘game’ to spread hatred against Pakistan. There he openly praised and confessed  ‘Mukti Bahini’ and India’s role, where he also actively participated in the so-called liberation movement  that lead to  creation of Bangladesh in 1971.

With wicked smiles on their faces the two Prime Ministers exchanged the worst moment of Pakistan’s history, the enlarged image of the moment of surrender  in 1971 where Pakistani General Abdullah Khan Niazi was signing the surrender treaty before Indian Army General Jagjit Singh Arora. That photo was a really painful moment for me, that was hashtagged as #BurnolMoment for Pakistan… and it is beyond my imagination how painful and worst it must be in reality when it actually happened, when Pakistan broke into two separate lands, West Pakistan as Pakistan and East Pakistan as Bangladesh in 1971… the dark scar of its history!

 

Coming  to the point, about the duo it is well said by Gen. (R) Pervez Musharraf:

“Yeh (Modi) Pakistan bashing kay lyay gae huay hain wahan(Bangladesh) jahan un ko aik buhat achi sathi mil gae hai, the Prime Minister of Bangladesh, unfortunately. Yeh dono mil kar Pakistan Bashing kar rahay thay”

Since Modi came to power last year, tensions between India and Pakistan are on the rise and this is all due to the aggressive attitude and extremist ‘Hindu’ mentality of Prime Minister Modi and also of his ministers. The ill intentions of Modi Sarkar and his anti-Pakistan connotations can be best explained in words of Gen. (R) Pervez Musharraf that he stated in various interviews.

When Modi came to power and invited Nawaz Sharif at his oath taking ceremony, he not only accepted it but also attended the ceremony, at this he said quite clearly:

“We should not act as his subjects as if he is some Viceroy or Prime Minister of ours. If we see the reality of Modi, quite clearly he is anti-Muslim & anti-Pakistan. There is no doubt in it.”

 

Emphasizing on the balance of power in the South Asian region especially about Pakistan, he gave strong message to Modi and India:

“He(Modi) should not be mistaken that he can do anything with us. He can’t do anything. So why are we treating him like a Viceroy. Leave him and let’s see what card he plays. We will see and then decide how to deal with him. We want to live peacefully, but with honour and dignity.”

In 2002, in India-Pakistan standoff, Gen. (R) Pervez Musharraf made it clear to the Indians that Pakistan military is a force to be reckoned with. One night, from intelligence agencies, he received reports about India’s possible plan to launch a limited air attack in Pakistan, in Azad Kashmir. General Musharraf immediately responded by sending alert messages to Air Chief Late Mushaf Mir to open all air headquarters and air fields to launch a counter attack in th event of an attack by India, by selecting targets and striking back again in the morning. The attack never arrived. At this he said:

“Hum Pakistan aik taqat hain. 20 crore awaam hain yahan.Afwaj e Pakistan buhat strong hai. Hum johri taqat hain. Kisi ki majaal nahi kay ap hamaray sath kuch karsaken. Challenge karta hun main.Kuch karkay dekhao dekhtay hain!”

It is clearly visible for all to see that the armed forces of Pakistan and Gen. (R) Pervez Musharraf are the ones who openly and strongly condemn and respond to India when they give anti-Pakistan statements ranging from their Prime Minister to a minor servant! Pakistani politicians seem to fail at responding to Modi in a a befitting manner as for them their personal interests are more important than Pakistan’s interest.

The China-Pakistan Economic Corridor, a project that was first put on the table by Gen. (R) Pervez Musharraf is like a bone in the neck of India. In his visit to China last month, Modi opposed CPEC strongly to which Gen. (R) Pervez Musharraf replied bluntly and boldly (best understood in Urdu so I will write in Roman Urdu):

“ Un (Modi) ko kehna chayay band karo baat karna Pakistan kay upar. Hamara China kay sath jo kuch horaha hai tum kidhar say bol rahay ho bhai! Who the Hell are you? App apnay comments apnay paas rakhen. We don’t care about your comments!!!”

To be continued

Published : June 15, 2015
Disclaimer: The views expressed in this article are solely of the author and do not represent ARY policies or opinion.

Author Spotlight

Tabarak Unnisa

Tabarak UnnisaAn IT Graduate who believes in the slogan of ‘Pakistan First’. She tweets at : @TabarakUnnisa

Don’t let Pakistan fail..

Don’t let Pakistan fail

Pakistan

Pakistan is home to 180 million souls out of which 96% are common men and women,ranks it as sixth most populous state of the world. It is the second-largest country in the world with a predominantly Muslim population and holds a key geostrategic location, sharing international borders with India, China, Iran, and Afghanistan, as well as a 700-mile coastline along the Arabian Sea touching on the Persian Gulf. With a standing army of half a million, Pakistanis one of very few in the world in possession of nuclear weapons. Yet, due to negative trends in contemporary comparative politics it has wrongly been called “a failed state,” occasionally “a failing state,” and even at times “a rogue state.” One of the major reasons is of such negative tagging is that during 68 years of its existence most ofthe concentration remained on ‘State Building’ and not on ‘Nation Building’ and till today Pakistanremains “a nation still in the making’.

There have been a lot of efforts in the recent times for the ‘State Building’ in Pakistan by using interventionist strategies to restore and rebuild the institutions and apparatus of the state.Pakistan’s vibrant civil society, relatively open media, and the rise of an independent higher judiciary, amendments to strengthen democratic institutions and expand provincial autonomy are the clear examples of ‘State Building’ efforts.

Pakistan has successfully entered in a transitional phase to democratise from a decade of long authoritarian rule.The consensus over democracy has somewhat improved during the last few years but remains fragile.Surely, periods of transition not only leave common people in heightened need of orientation but also make political institutions more vulnerable to fluctuations in popular support and, as in some cases, to the pressures of hostile public opinion.For a state to become a democracy, political authority has to be constrained and balanced, individual rights protected, and a rule of law assured.In states whose governments continue to resist a more open and participatory form of governance, such as North Korea, Burma or Zimbabwe, the idea of democracy is a powerfulforce that inspires people to take on a more active role in public life. However,Pakistan like many of the newlyemerging democracies seem to fall short of some, often many, of the basic standards that define democratic rule, with irregular voting procedures, corruption, inefficiency and autocratic styles of government. In addition, as Pakistan is a country of the developing world, inequality and poverty remain severe obstacles to full self‐determination of the common people.The experiences of the past decades have shown that democracy is not a one‐way road and that a viable democracy requires more than the implementation of the key institutions of government. Rather, an accountable and efficient government is embedded in a complex web of interdependent conditions that require considerable time and effort to develop.

Pakistan should be geared to bestow more and more rights on the common man. Common man should be seen as a viable and alternate pillar of the society to assume responsibility whether in power sharing, law making or delivery justice system. Common man should not be seen as enemy of the system but should be geared and seen as a friend who in any eventuality can stand up to the task of Nation building.

Pakistan is a state in its developmental phase, a struggling nation-state, a state struggling to democratise, a state struggling to achieve a national identity. Pakistan as envisioned by its founders was to be an extraordinary state, a homeland for the Muslims, an ideological and political front-runner of the Islamic world.It was created amidst grim conditions. In the words of the historian Ian Talbot, “Pakistan’s birth was a difficult one, which involved immense suffering of thousands of common men and women. Its British midwife had abandoned it to a chaotic environment in which the elder Indian sibling looked on with hostility.’’

People of Pakistan must remember that Quaid-i-Azam reminded his people that although they had achieved Pakistan, they must not slacken in their efforts to build and strengthen the state. In a broadcast talk from Radio Pakistan, Lahore, on October 30, 1947 the Quaid said “Let us now plan to build and reconstruct and regenerate our great nation and our sovereign state of Pakistan which, as you know, is not only the biggest Muslim State in the world but the fifth biggest sovereign state in the world. Now is the time, chance and opportunity for every Mussalman to make his or her fullest and best contribution and make the greatest sacrifice and work ceaselessly and selflessly in the service of our nation and make Pakistan one of the greatest nations of the world.  While the horizon is beset with dark clouds, let me appeal to you and give this message to the people of Pakistan. Create enthusiasm and spirit and go forward with your tasks with courage and hope and we shall do it. Are we down hearted? Certainly not. The history of Islamic replete is full with instances of valour, grit and determination. So march on notwithstanding obstructions, confident that a united nation of 70 million people with a grim determination and with a greater civilization and history need for nothing. It is now up to you to work, work and work and we are bound to succeed”.

Published : August 14, 2015
Disclaimer: The views expressed in this article are solely of the author and do not represent ARY policies or opinion.

Author Spotlight

Dr Iqtidar Cheema

Dr Iqtidar CheemaDr Iqtidar Karamat Cheema, is an educationalist and analyst based in United Kingdom. He has earned his PhD in International Relations from University of Gloucestershire and authored 3 books and various research papers. He tweets @drcheema786 

‘Brain Drain and Brain Waste’, main Dilemma of Pakistan

‘Brain Drain and Brain Waste’, main Dilemma of Pakistan

'Brain Drain and Brain Waste', main Dilemma of Pakistan

Yesterday one more episode of carnage was happened in city of Lahore at a time when Nawaz Sharif was busy in meeting with Turkish Prime Minister Ahmet Davutoglu. This incident has shown the apathetic nature of our rulers. PM Nawaz Sharif instead of condemning this incident give a statement time is not far when those who left country start coming back.  Brain drain and brain waste are currently the main dilemma Pakistan is facing today. Exodus of Pakistani best and brightest doctors, engineers, IT experts, banker’s, accountants and scientists  in a staggering amount from the  country due to instability of political , economical , social and technological factors is a matter of severe concern for the future of country. Queues in front of embassies depicts true picture of current situation of law and order, inflation, unemployment and terrorism and unrest in the country. The billions of rupees schemes introduced by government like Prime Minister Youth loan scheme can’t stop this brain drain because these schemes have never been introduced on genuine grounds. These schemes have always been introduced to bestow their own relatives and party workers.

Every year thousands complete their graduation but due to lack of merit, nepotism and jobbery couldn’t get job. Only few of them luckily become successful to get job without any discrimination. Those who failed to get any employment or to do any entrepreneurial activity have no other option but to look towards other opportunities and top most is to go abroad. It doesn’t matter from which city of the Pakistan you belong, you must have seen these agents sitting there with different rates depending on the country where you want to go. They all have opened their shops and have their own ways to make people fool. One of them which I know has opened his own academy for the preparation of IELTS. He used to brainwash students during preparation and prepare them to go abroad. In the meanwhile, during preparation he keeps an eye on each student to know about their financial background to trap them. Later he demands the money accordingly.  There are thousands of agents like him who are playing with the future of Pakistan by wasting their time and money.

No one wants to leave their beloved country only the bleak future of Pakistan is causing them to go abroad in search of better opportunities of livelihood. Those who go abroad to improve their education come back to serve their country get treated like a step mother. Usman Asrar a young chap after serving six years in HBL and in UBL as a branch manager went UK to improve his education in 2013 and did his master’s from there and came back to serve  his country in 2014 as compare to others who preferred not to come back. However, when he came back all his dreams and hopes dispersed when he went for an interview on with bank of Punjab HR head in Lahore and he refused his application on these grounds that he has a one year of gap in his job.  Reverse brain drain is also possible only when the culture of corruption and favoritism comes to an end.

Every year people from abroad send billion of rupees in the form of remittances. These remittances are the important source to run wheel of the economy. When these Pakistanis buy any property and land from their hard earned money inside the country at the end they come to know that this scheme was a scam and they have drowned their money.  Recent statement after resignation from ex-governor Punjab Muhammad Sarwar clearly indicates that government itself is guilty and supporting the corrupt land mafia. God Bless Pakistan and give us a true and sincere leadership in future to get out the nation from this quagmire of land mafia and agents who are playing with future of the nation.

Published : February 18, 2015
Disclaimer: The views expressed in this article are solely of the author and do not represent ARY policies or opinion.

Author Spotlight

Shahid Aziz

Shahid AzizShahid Aziz is a graduate of University of East London. Msc International Marketing Management specialization in branding currently working on a managerial post in multinational food dicing company in London.

‘Friendly’ neighbours who won’t even trust our pigeons!

‘Friendly’ neighbours who won’t even trust our pigeons!

blog

While Pakistan is considering bestowing India with the title of most favourite nation (MFN), trying to boost bilateral relations and to enhance their trade with our eastern neighbour, the recent pigeon incident made it doubtful to do business with a country harbouring suspicions on cross borders birds. Movement of birds from one border to another is a natural thing and they are not restricted to move freely between two borders as these innocent don’t know whether it’s a Pakistani border or Indian border.

Have we considered what would be the consequences of future trade and MFN for our country in future when if something went wrong there due to their own mistake, who shall be blamed? .It is true from day one that Indians have not accepted Pakistan wholeheartedly as a separate, sovereign state and always tried to destabilize Pakistan economically, culturally, internally and externally through different communication tools. India can’t afford to see Pakistani flag being hoisted in Kashmir or anywhere in the world. The recent incidents of terrorism after China’s huge investment in Pakistan are obvious for all to see.

Pakistan just commemorated Yom-e- Takbeer on 28th May , the day when the nation became a nuclear power . India who is more scared than ever before and seems to be on its toes ever since Pakistan tested its first drone Buraq and RAAD missiles, they foolishly suspect every bird as a potential weapon . Can a country that is not ready to accept birds from our country, deal fairly and justly with our goods? During the times of old, pigeons were used as a mode of communication between lovers to exchange messages. I’m sure most of you might recall the famous song:-

JaJa

Ja Ja

Ja Ja

( Kabootar Ja Ja Ja )…

Pehle Pyaar Ki Pehli Chitthi

O O Pehle Pyaar Ki Pehli Chitthi Saajan Ko De Aa

( Kabootar Ja Ja Ja )…

The ‘suspect’ Pakistani pigeon was caught by a 14 year old boy of Pathankot ,India. He saw some writing in Urdu and rushed towards a nearby police station. At the police station, as goes a famous proverb “Doodh ka jala chaanch ko bhi phook phook ke peeta hai”, the Indian police immediately sent this pigeon for X- ray and when nothing adverse was found, they kept it in custody!

Published : June 1, 2015
Disclaimer: The views expressed in this article are solely of the author and do not represent ARY policies or opinion.

Author Spotlight

Independence day: Securing Pakistan from India’s enmity

blog4

As 14th August used to approach, I remember when I was a kid I used to decorate my home with small Pakistani flags called Jhandies  along with my brothers and celebrate it by chanting  in streets “Pakistan ka Matlab Kiya: La Ilaha IllalAllah”  and “Kashmir bane ga Pakistan”. Unfortunately this year 145 little innocent children who sacrificed their lives for the land of pure on 16th December 2014 carnage are not among us. We should celebrate this day as a one nation by showing our solidarity with  children of Peshawar .We should need to convey a strong message to the world  on this special day is “Every Pakistani is a brand ambassador” and we are united as a nation. We need to rebrand Pakistan image by telling the world we are not terrorists but we are victim of terrorism. As we are making this day we should also have a look on the reasons why Pakistan was made? Was it a mistake?

Altaf Hussain’s request for invasion of Indian army into Pakistan in his recent speech is evident how India is still influencing in Pakistan’s internal political and economic infrastructure through their agents. Do you remember the recent Peshawar incident of 16th December 2014 or earthquake in 8th October 2005 when the world was astonished to see the unity of the nation?

India has never accepted Pakistan wholeheartedly since its day of inception and used various methods to destabilize Pakistan. Indian PM Modi during his state visit of Bangladesh in June had admitted their alleged dirty role to break Pakistan, He said we are proud Indian army sacrificed themselves for the liberation of Bangladesh in 1971. Now India is running a campaign to convert Muslims back into Hindus named as “Ghar Wapsi Program”. India didn’t recognized Pakistan and still all their policies circulate around to implement their narrow-minded concept of “Akhand Baharat” to destabilize Pakistan.

Pakistan came into being on the basis of two nation theory in which Quaid e Azam Muhamamd Ali Jinnah categorically described the purpose to build separate country for the Muslims of subcontinent as Muslims and Hindus are two different nations, our culture and traditions are totally different from each other. They worship the cow, we slaughter it. No, need to go back in history recently India executed Yakub Memon convicted over Bombay bomb blasts. Indian court system was influenced by powerful Hindu government of Modi Sarkar to give him punishment as a Muslim. He was hanged by ignoring those culprits who were involved in destruction of Babri masjid and Gujrat riots (himself Modi).  Yakub Memon last statement “Jinnah was right in making Pakistan, Hindustan is for Hindus only” is enough to understand the motives behind to get separate country. Now it looks apparent the decision to make Pakistan was right

Pakistan always tried to make their relations better with India but this is India which doesn’t want to waste any single moment to defame Pakistan on each and every platform through its media, lobby groups, pressure groups locally and internationally. Pakistan is considering giving title of most favourite nation to India but on the other hand the level of trust is so low between two countries even India looks pigeon from cross border with suspicious eyes.

Pakistan was established due to great sacrifice of our elders. They sacrificed their lives to give us a better future. World’s largest migration took place in 1947. The dream which Allama Iqbal saw our elders made it true under the leadership of great leader Muhammad Ali Jinnah. At the time of creation we were united as a one nation had an identity, self esteem and respect all over the world. What now we are disintegrated on religious basis, linguists and even couldn’t decide who is martyr. Since long, Pakistan enemies are trying to divide us but we have proved to the world we are one nation. Pakistanis have already proved they are the brilliant nation of philanthropists, engineers, scientists, artists, bankers and doctors. The only need to lift up this nation from this quagmire requires a sincere and honest leadership. God bless Pakistan.  Happy Independence Day.

Published : August 15, 2015
Disclaimer: The views expressed in this article are solely of the author and do not represent ARY policies or opinion.

Author Spotlight

Shahid Aziz

Shahid AzizShahid Aziz is a graduate of University of East London. Msc International Marketing Management specialization in branding currently working on a managerial post in multinational food dicing company in London.

قومی ترانہ: دھن، شاعری اور تنازعات

55cca1eb67ea5

قیامِ پاکستان کے بعد 7 برس تک پاکستان کا کوئی قومی ترانہ نہ تھا۔ بس ترانے تھے جو مختلف سرکاری تقریبات پر گائے جاتے تھے۔ پاکستانی قیادت کو آئین بنانے میں جتنی دشواریوں کا سامنا تھا، اتنا ہی قومی ترانہ بنانے میں۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ رہی ہوگی کہ ترانہ کس زبان میں لکھا جائے، کیونکہ پاکستان کے اکثریتی علاقے مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان بولی جاتی تھی، جبکہ مغربی پاکستان میں 4 زبانیں یعنی سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو بولی جاتی تھیں، جبکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی زبانوں سے ہٹ کر اردو کو قائدِ اعظم محمد علی جناح صاحب کی جانب سے قومی زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس بات پر مشرقی پاکستان میں بسنے والے بنگالی خاصے معترض تھے۔

عقیل عباس جعفری اپنی کتاب ”پاکستان کا قومی ترانہ: کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟“ میں لکھتے ہیں کہ:

”4 اگست 1954 کو کابینہ کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں حفیظ جالندھری کے لکھے گئے ترانے کو بغیر کسی ردو بدل کے منظور کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اجلاس میں کابینہ نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ اس ترانے کی موجودگی میں اردو اور بنگالی کے دو قومی نغمات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔“

پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کے خالق کا انتقال 5 فروری 1953 کو ہوا، جبکہ قومی ترانے کی دھن اور ترانے کی منظوری 4 اگست 1954 کو ہوئی۔ انہیں اپنی زندگی میں یہ دن دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ ان کی اس خدمت کا اعتراف بھی ایک بڑے عرصے بعد کیا گیا۔ جمیل زبیری اپنی کتاب ”یاد خزانہ ریڈیو پاکستان میں 25 سال“ کے صفحہ نمبر 21 پر قومی ترانہ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:

”پاکستان کے قومی ترانے کی دھن محمد علی چھاگلہ (کتاب میں شاید پروف کی غلطی کی وجہ سے احمد غلام علی کی جگہ محمد علی لکھ دیا گیا ہے لہٰذا ہم نے من و عن لکھ دیا ہے) نے بنائی۔ اس کے بعد اس دھن پر ترانے لکھنے کے لیے ملک کے تمام شعراء کو مدعو کیا گیا اور سب سے بہتر ترانے کا فیصلہ کرنے کے لیے حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

“جب چھاگلہ کی بنائی ہوئی دھن ریڈیو پاکستان میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے سنی تو انہوں نے سب سے پہلے نہال عبداللہ کمپوزر وغیرہ کو بٹھا کر اس دھن کو موسیقی کی زبان میں ”بانٹا“ اور پھر اس پر سب سے پہلے ترانے کے بول لکھے۔ اسی دوران میں حفیظ جالندھری اور دیگر شعراء کے لکھے ہوئے ترانے موصول ہوگئے۔ سارے ترانے کمیٹی کے سامنے رکھے گئے اور کمیٹی نے حفیظ جالندھری کے ترانے کو منظور کر لیا۔

“کہتے ہیں کہ بخاری اس پر کافی ناراض ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے انہوں نے ترانہ لکھا۔ بہر حال کمیٹی کا فیصلہ حتمی تھا۔ اس کے بعد ریڈیو پاکستان کے انگریزی پروگراموں کی سپروائیزر مسز فیلڈ برگ (Feld Berg) نے اس کی orchestration کرنے اور notation تیار کرنے کے لیے لندن بھیج دیا۔ جب یہ چیزیں تیار ہو کر ترانہ واپس آیا تو ریڈیو پاکستان میں اس کی ریکارڈنگ ڈائریکٹر جنرل بخاری اور حمید نسیم نے مل کر کی۔ گانے والوں میں نہال عبداللہ، دائم حسین، نظیر بیگم، رشیدہ بیگم، تنویر جہاں، کوکب جہاں، اور چند دیگر فنکار شامل تھے۔ اس طرح ریڈیو پاکستان نے ملک کا قومی ترانہ تیار کیا۔“

http://https://r14—sn-q4f7dnsz.c.docs.google.com/videoplayback?lmt=1392241534092925&sparams=dur,id,ip,ipbits,itag,lmt,mime,mm,mn,ms,mv,pl,ratebypass,requiressl,source,upn,expire&ratebypass=yes&ipbits=0&key=yt5&upn=KtJN61OROIM&fexp=9406007,9406514,9406993,9407700,9408710,9409069,9412779,9412928,9415365,9415485,9416023,9416126,9417278,9417707,9418153,9418703,9418986&signature=91027268EABF620F8394B91F080B58C7EF99A3B7.4972D19A4254A4FDD243B6AE002F81E05E3400AD&itag=18&pl=26&mn=sn-q4f7dnsz&mm=31&source=youtube&dur=133.816&mime=video/mp4&ip=107.178.195.200&requiressl=yes&sver=3&expire=1439574636&mv=m&mt=1439552969&ms=au&id=o-AH_mNKWVYvb-J1hWtjkeNwjtuZ6mzxadwxE_N-P7IUlC&signature=95.85.24.225

.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کب ترتیب دی گئی؟ اور کیا اس سے پہلے بھی کوئی قومی ترانہ تھا یا نہیں؟ سینیئر صحافی نعمت اللہ بخاری کا کہنا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ان کے اسکولوں میں ترانے کے لیے علامہ اقبال کی مشہور نظم ”چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا، مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا“ پڑھی جاتی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکن اقبال علوی کا کہنا ہے ان کے دور میں اقبال کی مشہور نظم ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ پڑھی جاتی تھی۔ لیکن کیا کہیے کہ یہ دونوں نظمیں پاکستان کا قومی ترانہ نہ بن سکیں۔ عقیل عباس جعفری کے مطابق 1960 میں امین الرحمٰن نے ایک مضمون میں پاکستان کے قومی ترانے کی دھن تیار کرنے کا قصہ یوں بیان کیا ہے:

”1950 کے اوائل میں ایران کے جواں سال حکمراں رضا شاہ پہلوی شہنشاہِ ایران، حکومت کی دعوت پر پاکستان کے سرکاری دورے پر تشریف لائے۔ شہنشاہِ ایران کے استقبال کی تقریب پر رواج و آداب کے لحاظ سے ضروری تھا کہ معزز مہمان کا استقبال قومی ترانے سے کیا جائے۔ چنانچہ سرکاری طور پر پاکستان کے قومی ترانے کی ضرورت شدید طور پر محسوس کی گئی۔

احمد غلام علی چھاگلہ اس سے پہلے ہمارے پڑھے لکھے موسیقی داں طبقے میں ایک ماہرِ موسیقی کی حیثیت سے غیر معروف نہ تھے۔ اس تنگ وقت میں جناب چھاگلہ نے صحت کی خرابی کے باوجود شب و روز محنتِ شاقہ سے کام کیا اور آخر کار پاکستان کے قومی ترانے کے لیے ایک مناسب دھن مرتب کر ہی لی۔ جب شہنشاہ ایران پاکستان تشریف لائے تو ہمارے بحریہ کے بینڈ نے اس ترانے کو شہنشاہ ایران کے استقبال کے موقع پر بجایا، جو اسے سن کر بہت متاثر ہوئے۔“

پاکستان کا پہلا قومی ترانہ کس نے لکھا، اس حوالے سے گزشتہ ایک دہائی سے دانشوروں اور صحافیوں کے درمیان ایک جنگ چل رہی ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا، اس ضمن میں جگن ناتھ آزاد کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کے مطابق جناح صاحب نے انہیں یہ کام سونپا تھا کہ وہ پاکستان کا قومی ترانہ لکھیں۔ تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جگن ناتھ آزاد نے کہیں بھی اپنے ترانے کو ترانہ نہیں کہا۔ لیکن یہ ایک جنگ ہے جو تا حال جاری ہے۔

سینیئر صحافی نعیم احمد نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ: ”مجھے نہیں لگتا کہ جگن ناتھ آزاد کو جناح صاحب نے قومی ترانہ لکھنے کا کہا ہوگا، اگر ایسا ہوتا تو جگن ناتھ آزاد اس بات کو فخریہ بتاتے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جناح کو اردو شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا اور نہ ہی جگن ناتھ آزاد اور جناح صاحب کبھی کسی شہر میں یکجا رہے ہیں۔”

اگر نعیم صاحب کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کی کیا دلیل ہے کہ اردو سے ناواقف ہونے کے باوجود قائدِ اعظم کا اصرار تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی، حالانکہ سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں بسنے والے ان کی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بنگالی چاہتے تھے کہ پاکستان کا قومی ترانہ ایسا ہو جس میں بنگالی زبان کے الفاظ بھی شامل ہوں۔ لیکن ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

عقیل عباس جعفری اپنی مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 37 پر لکھتے ہیں کہ:

”ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ کے مطالعے اور ڈاکٹر صفدر محمود کی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات پایہء ثبوت کو پہنچتی ہے کہ 14 اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب ریڈیو پاکستان کی اولین نشریات میں جگن ناتھ آزاد کا کوئی نغمہ یا کوئی ترانہ شامل نہ تھا۔ ممکن ہے کہ جگن ناتھ کا تحریر کردہ نغمہ جسے وہ خود ترانہ اور ان کے مداحین قومی ترانہ کہنے پر مصر ہیں، بعد میں کسی اور وقت نشر ہوا ہو، مگر ابھی تک ریڈیو پاکستان کا کوئی ریکارڈ یا ریڈیو پاکستان سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی کوئی تحریر اس کی بھی تصدیق نہیں کر سکی ہے۔“

جمیل زبیری نے اپنی کتاب ”یاد خزانہ، ریڈیو پاکستان میں 25 سال“ کے ابتدائیے میں ایک انکشاف کیا ہے کہ سندھ کے پہلے ریڈیو اسٹیشن نے 4 اگست 1947 کو اپنے کام کا آغاز کیا۔ اس ریڈیو اسٹیشن کے قیام کا بنیادی خیال ایس کے حیدر نامی شخص کو تھا جن کی کراچی میں ریڈیو کی دکان تھی۔ انہوں نے اس سلسلے میں اے ایم چھاگلہ سے مشورہ کیا اس کے بعد وہ دونوں حکومتِ سندھ کے اس وقت کے ایک مشیر اڈنانی سے ملے اور کچھ پرانے ٹرانسمیٹروں کی مرمت کر کے تین کمروں پر مشتمل ایک ریڈیو اسٹیشن بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کا نام ”سندھ گورنمنٹ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن“ رکھا گیا۔ 10 اگست سے اس کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوگیا۔ 14 اگست 1947 کو اس اسٹیشن سے پاکستان کے قیام اور قائدِ اعظم کے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھانے کی کارروائی کا آنکھوں دیکھا حال نشر کیا گیا۔ اس ریڈیو اسٹیشن کی نشریات صرف دس روز جاری رہیں۔ 20 اگست 1947 کو اسے بند کر دیا گیا کیوں کہ وائرلیس ایکٹ کے تحت کوئی بھی صوبائی حکومت ریڈیو اسٹیشن نہیں چلا سکتی تھی۔“

کراچی کے حوالے سے معروف محقق گل حسن کلمتی اپنی کتاب ”کراچی کے لافانی کردار“ کے صفحہ نمبر241 پر لکھتے ہیں:

”ممکن ہے اسی تجرباتی ریڈیو اسٹیشن سے جگن ناتھ آزاد کا ترانہ بھی نشر کیا گیا ہو، لیکن اس بات کی تصدیق کرنے والوں میں سے اب کوئی بھی حیات نہیں۔ اس میں مزید تحقیق کی گنجائش ہے۔“

http://playit.pk/embed/Mz49Ww-jnMY

قومی ترانے کی دھن 1950 میں ترتیب دی گئی، لیکن اس قومی ترانے کی منظوری آزادی کے تقریباً 7 سال بعد 1954 میں ہوئی۔ چھاگلہ صاحب نے یہ دھن بنائی اور بڑی محنت سے بنائی۔ اس کا اندازہ دھن سنتے ہی ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اپنی زندگی میں اس دھن کی منظوری نہ دیکھ سکے اور نہ ہی اس حوالے سے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی اس بے بہا خدمت کا اعتراف کیا گیا۔ ان کی اس خدمت کے صلے کے لیے ان کے خاندان کو تقریباً 46 برس تک انتظار کرنا پڑا۔ گل حسن کلمتی اپنی کتاب ”کراچی کے لافانی کردار“ کے صفحہ نمبر 242 پر لکھتے ہیں کہ:

”آخرکار 43 سال بعد 1996 میں محترمہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں احمد علی چھاگلہ صاحب کو صدارتی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ یہ ایوارڈ چھاگلہ صاحب کے فرزند عبدالخالق چھاگلہ جو کہ امریکی ریاست ہیوسٹن میں مقیم ہیں، انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں 23 مارچ 1997 میں پاکستانی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی تقریب میں وصول کیا۔“ چلیں ”دیر لگی آنے میں تم کو، شکر ہے پھر بھی آئے تو“۔

حفیظ جالندھری کا انتقال 21 دسمبر 1982 کو ہوا۔ حکومتِ پاکستان حفیظ جالندھری کی اس خواہش پر ایک عرصے تک غور کرتی رہی کہ انہیں ان کی خواہش کے مطابق علامہ اقبال کے پہلو میں دفنایا جائے یا کہیں اور۔ معروف مؤرخ اور محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل کے مطابق حکومت پاکستان ان کی یہ آخری خواہش پوری نہ کر سکی۔ ابتداء میں انہیں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا۔ بعد ازاں مینارِ پاکستان کے باغ میں ان کا مقبرہ بنا کر انہیں وہاں دفن کیا گیا۔ یہ تھا پاکستان کے قومی ترانے کی دھن اور شاعری کا قصہ۔

اختر بلوچ سینیئر صحافی، لکھاری، اور محقق ہیں۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کونسل ممبر ہیں۔ وہ سوشیالوجی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔