Category Archives: Urdu Articles

دنیا کی 100 اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں ایک بھی اسلامی ملک کی یونیورسٹی شامل نہیں، رپورٹ

دنیا کی 100 اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں ایک بھی اسلامی ملک کی یونیورسٹی شامل نہیں، رپورٹ

Advertisements

Popular Top 10 Wonders of The World

There is the list of  top 10 wonders of the world which are the masterpiece of the skill and handwork of the people of that era. Today we become astonished to see these wonders that in so remote ages without any modern technology and machine how so great construction were made.

The Top 10 Wonders of The World

world-wonder

It is a waterfall located in southern Africa on the Zambezi River between the countries of Zambia and Zimbabwe.

popular-world-wonders

popular-wonders-in-world

great-rift-vellyaethopia-great-rift-valley

giants-causeway-irelandireland-giants-causeway

It was constructed by famous Mughal ruler Shah Jahan in memory of his beloved wife Mumtaz Mahal.

taj-mehal

AdiL

taj-mehal-in-india tera-kotta-armyarmy-tera-kotta

The Great Wall of China was constructed 7th century BC. It is a series of fortification built to protect the empire of China.

china-great-wall great-wall-in-china famous-world-wondersngorongoro-crater-tanzania

!میرا دل، میری جان، پاکستان پاکستان

اگست 1947 ایک سبز ہلالی پرچم دنیا کے نقشے پر اُبھرا، ایک ایسی مملکت جس کے حصول کے لیے لاکھوں لوگوں نے جانیں قربان کیں لیکن آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ قائد کی انتھک محنت، کاوش اور قربانیوں کا زندہ پیکر، اے سوہنی دھرتی تیری آزاد اور پاک فضائیں ہی تو بھاتی ہیں تیرے متوالوں کو، تیرے بیٹے سرحدوں پار اور سرحدوں کے اندر بھی دہشت گردوں اور تیرے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔

تیرے گلستان، پربت، جھیل، دریا تیرے حسن و پاکیزگی کے عکاس ہیں۔ اس آزادی کو محسوس کرو ان پاک فضاؤں میں، اس مٹی کی سوندھی مہک میں رب کا شکر ادا کرو۔ اس بیش قیمت نعمت کے لئے، اے عزیزِ من سب پاکستانیوں کا عزم ہے تیری سلامتی اور تیری ترقی، آزادی کاجشن برپا ہے اس وطن کی گلیوں، محلوں میں، آزادی کی خوشی عیاں ہے ان سبز پوشاکوں ان چمکتے چہروں سے ۔

یہ ذوق یہ شوق، میرے وطن تیرے جشن منانے کے لئے ہم سجائیں گے اس ارضِ زمیں کو، خود کو، یہ تیاریاں، سجاوٹ آزادی کا احساس ہی تو ہیں۔

اس جھنڈے سے اب قوم کی لاج ہے، اس جھنڈے پہ سب کی نظر آج ہے

جان سے کیوں نہ ہم کو یہ پیارا رہے، چاند روشن چمکتا ستارہ رہے

تو ہی تو ہے میرا گھر، میرے چمن، میرے وطن، میرے مقدر میں ہے ارضِ پاک پر بکھرا میرا رزق ۔۔۔

میں پاکستانی ہوں، تن سے بھی اور من سے بھی، میرا دل، میرا چہرہ پاکستانی، میرا پہنا وا، سج دھج بھی پاکستانی

آزادی ایک جنون، ایک جہدِ مسلسل، منتقل کرنا ہے مجھے، اپنی نسل کو شعور دینا ہے ارضِ پاک سے محبت کا، تعمیر کا

میرا دل، میری جان پاکستان، میری پہچان، میری شان، نثار تجھ پر جان، سدا جیوے میرا پیارا پاکستان

اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے یہ وطن، یہ آزادی تیری جہدوجہد، کاوشوں کا مظہر ہے، اے قائد تجھے سلام

یہ سبز پہناوا ہی تو پہچان ہے، میری آرائش کا سامان، کیوں نہ اس رنگ میں ہی سب رنگ جائیں، بچے، بوڑھے اور جوان

نثار تیری گلیوں کے اے وطن، یہ رونق، یہ شادمانی، اے پاک دھرتی کسی دشمن کے کی میلی نظر ان چمکتے چہروں پر نہ پڑے، سلامت رہیں تیرے بیٹے

ہوا کے دوش پر لہراتا یہ سبز ہلالی پرچم سدا اونچا ہی رہے گا، تیرے رکھوالے اس پرچم کو سر بلند رکھنے کے لئے ہیں پرعزم۔

!کچھ ذکر حمید گل مرحوم کا

384193-HamidGul-1439806212-178-640x480

screenshot-www express pk 2015-08-19 12-09-03یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

ہفتے کی رات ساڑھے گیارہ بجے سی ایم ایچ پسپتال مری میں قوم کے عظیم سپوت جنرل ریٹائرڈ حمید گل قضائے الہی سے انتقال کرگئے ۔

ہر ذی روح اللہ کی امانت ہے اور اس نے پلٹ کر اللہ کے ہی دربار میں جانا ہے۔ جب اللہ پاک انبیاء علیہ السلام، صحابہ کرام، اولیا اللہ، محدثین، مجددین، مجاہدین کی روحوں کو قبض کر سکتے ہیں تو اللہ نے جنرل صاحب کو بھی اپنے دربار میں واپس بلانا ہی تھا۔ جنرل حمید گل اب زندہ سے مرحوم ہوگئے اور اب اُن کے نام کے ساتھ مرحوم کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔ یہی انسان ہے، یہی اس کی زندگی ہے اور یہی اس کی زندگی کی حقیقت بھی ہے۔

Gen. Hameed Gul, though controversial, was a staunch patriot & a brilliant strategic mind history will remember! May Allah bless his soul!

— Moeed Pirzada (@MoeedNj) August 16, 2015

جنرل صاحب سابق ڈی جی آئی ایس آئی بھی رہے ہیں۔ آپ نے آئی ایس آئی کی قیادت 1987 سے 1989 کے مشکل دور میں کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین سے جنگ اپنے آخری مراحل میں تھی۔ جنرل صاحب کی بہترین حکمت عملی نے اس جنگ کو پاکستان کے علاقوں میں منتقل ہونے سے روکا تھا۔ بہت سے روسی اور امریکی دانشور جنرل صاحب کو سویت یونین کے ٹکڑے کرنے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہیں۔

جنرل حمید گل قیامِ پاکستان سے قبل 20 نومبر 1939ء میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق یوسف زئی قبیلے سے تھا۔ آپ کا خاندان سوات کا رہنے والا تھا۔ جس نے سوات سے سرگودھا ہجرت کی تھی۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی حاصل کی، جس کے بعد آپ گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے۔ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد حمید گل نے فوجی اکیڈمی، پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول رپورٹ کیا۔ 1956ء میں آپ کو پاکستان آرمی میں کمیشن ملا اور آپ نے اپنے ملٹری کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1965ء کی جنگ میں آپ اسکوارڈن کمانڈر رہے تھے۔ 1968ء میں آپ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ چلے گئے۔ 1972ء سے 1976ء کے دور میں آپ نے جنرل ضیاء الحق کے ساتھ بٹالین کمانڈر کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دیے۔ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ تعلقا ت کی وجہ سے ہی بے نظیر بھٹو نے ڈی جی آئی ایس آئی کی پوزیشن سے ہٹایا تھا۔ جنرل صاحب نے دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے محاذ آرائی سے گریز کیا اور جمہوریت کی خاطر اپنی پوسٹ بھی جانے دی تھی۔ اس کے بعد جنرل حمید گل نے 1989ء میں ضربِ مومن کے نام سے بڑی جنگی مشقیں کی تھیں اور بھارت کے جنگی عزائم کو اسی وقت ٹھنڈا کر دیا تھا۔ 1991ء میں جنرل آصف نواز کے دور میں جنرل حمید گل نے آرمی سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

جنرل صاحب کی وجہ شہرت جہاد سے دلچسپی تھی۔ پاکستان کی بیشتر خرابیوں کا ذمہ دار آپ لبرل اور لیفٹ کے طبقے کو سمجھتے تھے، اور بہت سے انٹرویوز میں اس بات کا اظہار بھی کر چکے تھے۔

جذبہ جہاد سے سرشار اس مرد مجاہد نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے دماغ کو ریٹائر نہیں ہونے دیا تھا۔ 78 سال کی عمر میں بھی مکمل رعب کے ساتھ اپنی مخصوص گرجدار آواز میں بھارت کو للکارا کرتے تھے۔ بھارت میں جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اُن کا خوف تھا اور امریکہ کیلئے وہ درد سر بنے رہے تھے۔

جنرل صاحب نے امریکیوں کے ساتھ بھی کام کیا تھا اور آپ ان کی رگ رگ سے واقف تھے۔ آپ کا شمار ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جنہوں نے نائن الیون کے بعد اولین دور میں نا صرف نائن الیون کے سانحے پر سوالیہ نشان اٹھائے تھے بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ اصل میں یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ آپ کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ

’’نائن الیون بہانہ ہے، افغانستان ٹھکانہ ہے، پاکستان نشانہ ہے ۔‘‘

آپ کی پاکستان سے محبت کسی بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کوئی بھی باشعور فرد، خواہ اس کا تعلق بائیں ہاتھ کے طبقے سے ہی کیوں نہ ہو، آپ کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھا سکتا ہے۔ جنرل صاحب امریکہ کے بڑے نقادوں میں سے ایک تھے اور آپ نے ہمیشہ کھل کر امریکہ پر تنقید کی ہے۔ جنرل صاحب نے کھل کر جہاد کشمیر کی حمایت کی ہے۔ آپ نے وکلاء تحریک میں عدلیہ کا ساتھ بھی دیا ہے۔ آپ نے اسامہ بن لادن کو تب ہیرو کہا تھا جب پاکستان میں بن لادن کا نام لیتے ہوئے بھی لوگ گھبراتے تھے۔ جنرل صاحب کی دلیری کی وجہ سے ہی بھارت نے آپ کو اپنی موسٹ وانٹڈ لسٹ میں رکھا تھا۔ امریکہ نے جہاد سے لگاؤ کی وجہ سے ہی جنرل صاحب کا نام بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالا تھا اور پھر یہ نام اقوام متحدہ میں بھی دیے تھے جن کو چین نے ویٹو کردیا تھا۔

جنرل صاحب امریکہ کو پاکستان کا دشمن کہتے تھے اور مجھے اب یہ بھی کہنے دیں کہ جن بنیادوں پر جنرل صاحب نے امریکہ کو دشمن ڈکلیئر کیا تھا وہ سب درست تھی۔ جولائی 2010ء میں وکی لیکس نے کچھ ڈاکومنٹس شائع کئے تھے، یہ 92 ہزار ڈاکومنٹس افغان جہاد 2004 سے 2009ء متعلق تھے۔ ان دستاویزات میں جنرل صاحب کو افغان طالبان کا ساتھ دینے پر مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

میری جنرل صاحب سے زندگی میں دو ایک ملاقاتیں ہیں۔ میں نے ہمیشہ ان کو شفیق اور محبت کرنے والا پایا ہے۔ جنرل صاحب سے مختلف موضوعات پر گائیڈ لائن بھی لیا کرتے تھے۔ میرے لئے وہ استادوں کی طرح ہی تھے۔ جنرل صاحب کے بیٹے عبداللہ گل سے بھی میری دوستی ہے۔ یہ بھی اپنے باپ کی طرح سے امت کا درد دل میں رکھتے ہیں اور جب بھی بات کرتے ہیں تو بہت ہی محبت سے بات کرتے ہیں۔ جنرل صاحب بلاشبہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی شخصیت تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اسنائپر کی گولی ایک کلومیٹر کے فاصلے سے بھی نشانہ خطا نہیں کرتی ہے۔ 4 انچ کی گولی اگر انسان کی جان لے سکتی ہے تو میں موت سے کیوں ڈروں۔ اگر میرے نصیب میں شہادت ہوئی تو میں شہید ہوجاؤں گا، ورنہ موت تو آنی ہے۔ جنرل صاحب صحیح معنوں میں پاکستانی اور مجاہد تھے، جنہوں نے آخری وقت تک پاکستان کا ہر محاذ پر دفاع کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ اُن کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں۔ اُن کی کوتاہیوں کو معاف کرتے ہوئے اُن کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کریں۔ جنرل صاحب، آپ سے انشااللہ اب رب کی جنتوں میں ملاقات ہوگی، بلاشبہ آپ نے اپنا فرض احسن طریقے سے پورا کیا ہے۔ تب تک کیلئے اللہ حافظ ، پاکستان زندہ باد۔

قدر کیجیے کہ پاکستان ایک نعمت ہے!

 

ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکمرانوں کوٹھہراتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں منتخب کرکے ایوانوں میں بھی ہم ہی بھیجتے ہیں۔

یار! یہاں کا سارا سسٹم ہی خراب ہے۔ خدا کی قسم! نفل ادا کروں گا جب اس ملک سے جان چھوٹے گی میری، عاصم جو ایم ایس سی کا امتحان تو پاس کرچکا تھا مگر ڈگری حاصل کرنے کے لیے پچھلے دو ماہ سے خوار ہو رہا تھا اور اپنے دوست طاہر سے مخاطب تھا جو اُس کا کلاس فیلو بھی تھا۔

کیا ہوگیا ہے یار! بھلا اپنے ہی ملک کے بارے میں کوئی ایسے بولتا ہے کیا؟ تو اورکیا کہوں؟ سب کچھ تیرے سامنے ہی ہے کہ کیسے اپنی ہی ڈگری حاصل کرنے کے لیے کس قدر اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہمیں، جیسے ہم یہ ڈگری امتحان پاس کرکے نہیں بلکہ پیسے دے کر لے رہے ہوں۔ میں بھی تو دو ماہ سے تیرے ساتھ ہی خوار ہو رہا ہوں، مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں اپنے ہی ملک کو کوسنا شروع کردوں۔ طاہر، عاصم کے خیالات سے ہرگز متفق نہیں تھا۔ دو دن بعد آخری تاریخ ہے اسکالر شپ کے فارم جمع کروانے کی، اگر آج بھی ڈگری نہ ملی تو گئے کام سے، اللہ اللہ کرکے اس ملک سے نکلنے کا موقع مل رہا ہے اور میں یہ موقع کسی صورت بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ یار! ایسے بول رہا ہے جیسے تونے پی ایچ ڈی مکمل کرکے پاکستان واپس آنا ہی نہیں ہے۔ طاہر نے ہنستے ہوئے کہا۔ بالکل درست اندازہ لگایا ہے تو نے، میں اتنی جدوجہد پاکستان واپس آنے کے لیے نہیں کر رہا ہوں۔ عاصم نے سنجیدگی سے کہا۔

حلف نامہ جو جمع کرارہے ہو اُس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ میں اپنی تعلیم مکمل کرکے پاکستان واپس آؤں گا اور پانچ سال تک یہاں کے اداروں میں نوکری کروں گا، اُس کا کیا؟ وہ سب تو کاغذی کارروائی ہے، اُسے کون پوچھتا ہے، یار! اور جو ضمانت دینی ہے، وہ؟ طاہر کو اُس کی باتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ ہم پاکستان میں رہتے ہیں یار، یہاں بس جیب میں پیسہ ہونا چاہیے ہر مشکل حل ہوجاتی ہے۔ بس دعا کرو کہ کسی طرح مجھے یہ اسکالر شپ مل جائے، پھر نہیں میں دوبارہ پاکستان میں قدم رکھنے والا۔ کہیں بھی چلا جا، کہلائے گا تو آخر پاکستانی ہی ناں۔ طاہر کے لہجے میں اب طنز تھا۔ کب تک، آخر کب تک؟ صرف دوسرے ملک کا پاسپورٹ ملنے کی دیر ہے، پھر کونسا پاکستان اور کون پاکستانی، پھر یہ داغ بھی دھل جائے گا۔ داغ؟ کیا تیرے لیے پاکستانی ہونا ایک داغ ہے، آخرکیا خرابی ہے اس ملک میں؟

تمھارے پاکستان میں ڈھنگ کی کوئی نوکری نہیں، اور تو کہتا ہے کہ کیا خرابی ہے اس ملک میں۔ تیرے ابّو نے اپنی پوری ملازمت کے دوران ایک مرتبہ بھی رشوت نہیں لی، اور اُنہیں اس ایمانداری کا کیا صلہ دیا گیا؟ اُنہیں رشوت لینے کے جرم میں نوکری سے برخاست کر دیا گیا، اور تجھے اس ملک میں سب اچھا نظر آتا ہے۔ یہاں جس کے پاس جتنی زیادہ دولت ہے اُس کی اُتنی زیادہ عزت ہے۔ یہ ملک صرف طاقتوروں، دولتمندوں اور لٹیروں کو نوازتا ہے، ہمارے جیسوں کو تو اپنا حق لینے کے لیے بھی ایڑیاں رگڑنا پڑتی ہیں اور تجھے پھر بھی اس ملک میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔ عاصم جذباتی ہوگیا تھا۔ اس میں قصور پاکستان کا نہیں، ہمارا اپنا ہے۔ یہ ملک ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیوں سے حاصل کیا تھا، یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے ان قربانیوں کی قدر نہ کی۔ اگر ہم ٹھیک ہوجائیں تو یہ ملک خود بخود ہی جنت بن جائے گا۔ ابھی یہ بحث نہ جانے اور کتنی دیر چلتی کہ ایک ادھیڑ عمر کلرک نے آکر آواز لگائی، اپنی ڈگریاں ایڈمن آفس سے وصول کرلیں، اور دونوں اپنی بحث چھوڑ کر ایڈمن آفس کی طرف چل پڑے۔

عاصم کو اُس کی محنت سے حاصل کی ہوئی ڈگری بھی مل گئی اور امریکہ کی اسکالرشپ بھی، امریکہ پہنچ کر اُسے ایسا لگا جیسے وہ دوزخ سے نکل کر اچانک جنت میں آگیا ہو، بالکل ویسے ہی جیسا اُس نے ہمیشہ سے چاہا تھا، اُسے اپنی قسمت پر رشک آرہا تھا۔ وقت گزرتا گیا، طاہر نے پاکستان میں مقابلے کا امتحان پاس کیا اور پولیس کا محکمہ جوائن کرلیا، عاصم کی تعلیم کا بھی امریکہ میں آخری سال تھا، مگر اُس کا پلان کے عین مطابق پاکستان واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ یونیورسٹی میں عاصم کا ایک کلاس فیلو تھا جس کا نام جتندرکمار تھا، جتندر بھی انڈیا سے اسکالر شپ پر پڑھنے کے لیے آیا تھا۔ ایک دن عاصم کو یونیورسٹی کے کسی کام میں مدد کے سلسے میں اُس کے روم میں جانا پڑگیا۔  جتندر کے روم کا دروازہ تقریباََ کھلا ہی تھا، جب ایک دو مرتبہ دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود بھی جتندر باہر نہ آیا تو عاصم بغیر اجازت کے ہی اندر داخل ہو گیا۔ سامنے کا منظر عاصم کے لیے ناقابلِ یقین تھا، جتندر کمار زمیں پر جائے نماز بچھائے عشاء کی نماز پڑھنے میں مصروف تھا، ساتھ ہی ایک اسٹینڈ پر قرآن شریف رکھا تھا۔

آپ کب آئے؟ جتندر کی آواز نے سوچوں میں گم عاصم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ہاں۔۔۔ بس ابھی، کیا آپ نماز پڑھ رہے تھے؟ عاصم نے فوراََ ہی وہ سوال پوچھ ڈالا جس نے اسے پچھلے کچھ لمحوں سے مخمصے میں ڈال رکھا تھا۔ کیا آپ مسلمان ہیں؟ بھائی مسلمان ہوں تو نماز پڑھ رہا ہوں، جتندر نے کولڈ ڈرنک کا گلاس عاصم کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ آپ کا نام تو، الفاظ عاصم کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ میرا نام مسلمانوں والا نہیں، یہی ناں؟ دراصل یہ نام میرے بابا نے رکھا ہی اس وجہ سے تھا کہ مجھے اپنے نام کی وجہ سے کبھی کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ رکاوٹ؟ رکاوٹ کیسی؟ جتندر کی بات بالکل بھی عاصم کے پلّے نہیں پڑی تھی۔

بھائی آپ خوش قسمت ہیں کہ تقسیم کے وقت آپ کے بزرگوں نے پاکستان کا انتخاب کیا، اور ہمارے بڑے، وہ تو تھے ہی قیامِ پاکستان کے مخالف، ہمارے بڑوں نے بہت سے اور مسلمانوں کی طرح بھارت میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ مسلمانوں کے لیے تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ میرے بابا انجینئر تھے، مگر اپنی ساری زندگی ایک معمولی سے مکینک کی حیثیت سے کام کرتے گزار دی، اُنہیں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے نوکری نہیں ملی۔ میرے چچا یونیورسٹی میں پڑھتے تھے، ایک دن ساتھی طلباء سے کسی بات پربحث ہوگئی۔ اگلے ہی دن سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ اہلکار ہمارے گھر آئے اور چچا کوزبردستی اُٹھا کرلے گئے، چند دن بعد ہمیں اطلاع دی گئی کہ ہمارے چچا پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں مارے گئے ہیں ۔

تو اگر ہندوستان میں رہ کر ہندوستان کے خلاف اس طرح بولتا تو تجھے معلوم پڑجاتا کہ ہمارے بڑوں نے یہ وطن حاصل کرنے کے لیے اتنی قربانیاں کیوں دی تھیں، طاہر کے الفاظ عاصم کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ ابھی پچھلے دنوں ہی ہمارے محلے کی ایک مسلمان لڑکی کو چند اوباشوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کردیا. سب جانتے ہیں کہ ایسا کس نے کیا، اور اُن کا مذہب کیا تھا، گجرات کا ہندو مسلم فساد کسے یاد نہیں، میرے بابا نے میرا نام صرف اس لیے ہندؤں والا رکھ دیا تاکہ مجھے بھی اُن کی طرح مسلمان ہونے کی وجہ سے ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میرے بابا کا یقین تھا کہ اگر بھارت میں ہمارے لئے کچھ ہوتا تو محمد یوسف خان کو مشہور ہونے کے لیے دلیپ کمار نہ بننا پڑتا۔ جتندر کی بات ابھی جاری تھی مگر عاصم میں سننے کی مزید سکت نہیں تھی، وہ چپ چاپ اُٹھ کر کمرے سے باہر آگیا۔

screenshot-www express pk 2015-08-19 12-02-34 screenshot-www express pk 2015-08-19 12-03-07 screenshot-www express pk 2015-08-19 12-02-49

آج اُسے آزادی کا مطلب بھی سمجھ آ گیا تھا اور پاکستان کی اہمیت کا احساس بھی ہوگیا تھا۔ آج شعور کی آنکھ کھلی تو اُسے امریکہ میں بھی سب کچھ بدلا بدلا سا نظرآ رہا تھا، یہاں قانون کی بالادستی صرف اس وجہ سے ہے کیونکہ یہاں کے لوگ قانون کا احترام کرتے ہیں، اور ہم بھی صرف ان جیسے ملکوں میں آ کر ہی قانون کا احترام سیکھتے ہیں ورنہ پاکستان میں تو ہر چیز کا شارٹ کٹ ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اگر پاکستان میں ہم پر چھوٹا سا بھی ٹیکس نافذ کردیا جائے تو ہم سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ مگر یہاں ہمیں سب اچھا ہی نظر آتا ہے۔ ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکمرانوں کو تو ٹھہراتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان حکمرانوں کو منتخب کرکے ایوانوں میں بھی تو ہم خود ہی بھیجتے ہیں۔ میں آج جس مقام پر ہوں وہ بھی تو پاکستان کی وجہ سے ہی ہے، جس تعلیم کی بنیاد پر مجھے یہ اسکالرشپ ملا وہ بھی تو میں نے پاکستان میں رہ کر ہی حاصل کی تھی۔ عاصم کو سمجھ آ گیا تھا کہ ہم دوسروں سے پیچھے کیوں ہیں، ہماری اس حالت کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ ہم خود ہیں، ہمارے پیارے وطن نے تو ہمیں سب کچھ دیا مگر ہم ہی ناشکرے ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان میں صرف خامیاں ہی تلاش کیں۔

ابھی وہ ان سوچوں میں ہی گم تھا کہ پاکستان سے طاہر کا SMS آگیا، جشنِ آزادی مبارک۔ مجھے تو یاد بھی نہیں تھا کہ آج 14 اگست ہے، ان چار سالوں میں میں کتنا بدل گیا ہوں کہ اپنی آزادی کا دن بھی بھول گیا۔ اُسے اپنے آپ سے شرم آ رہی تھی۔ بس یار Phd تو کمپلیٹ ہوگئی ہے مگر یونیورسٹی والے کہتے ہیں کہ ڈگری دو ماہ بعد ملے گی، عاصم فون پر طاہر کو ہنستے ہوئے بتا رہا تھا۔ بس اِدھر ڈگری ملی، اُدھر میں اپنے ’’پاکستان‘‘ آنکھوں سے آنسو رواں تھے مگر دل سے بوجھ اُتر چکا تھا۔

’’پاکستان زندہ باد‘‘

پاکستان کو سالگرہ مبارک!

14th August 2015

آج یوم آزادی پاکستان منایا جارہا ہے،وہ دن جب مسلمانانِ برصغیر کو رب العزت نے ان کا اپنا گھر عطا کیا.

ہر سال کی طرح اس سال بھی 14 اگست کو پاکستان کی آزادی کا جشن منانے والوں کا جوش و خروش اپنے عروج پر ہے.

کہیں عمارتوں کو روشنیوں سے سجایا گیا تو کہیں گھروں پر چراغاں کیا گیا اور گاڑیوں ،موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ گلی گلی، کوچے، کوچے سبز ہلالی پرچموں کی بہار تو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے.

بچوں، بڑوں سب نے پاکستان کو اپنے انداز میں “سالگرہ مبارک” کہا اور وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعائیں مانگیں.

ہماری دعا ہے کہ خدا پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے.

 

راولپنڈی میں ایک شخص نے پاکستانی جھنڈے کے رنگوں پر مشتمل ماسک پہن رکھا ہے—۔فوٹو/ اے پی پی

اسلام آباد میں جھنڈے فروخت کرنے والے ایک شخص کے بچوں نے پاکستانی فوجیوں کا روپ دھار رکھا ہے—۔فوٹو/ اے پی اسلام آباد میں جھنڈے فروخت کرنے والے ایک شخص کے بچوں نے پاکستانی فوجیوں کا روپ دھار رکھا ہے—۔فوٹو/ اے پی

لاڑکانہ میں ایک بچی نے سبز اور گرین رنگ پر مشتمل ماسک پہن رکھا ہے —۔فوٹو/ اے پی پی لاڑکانہ میں ایک بچی نے سبز اور گرین رنگ پر مشتمل ماسک پہن رکھا ہے —۔فوٹو/ اے پی پی

اسلام آباد کے دو نوجوانوں نے پاکستانی جھنڈے کے رنگوں کی مناسبت سے فیس پینٹنگ کرا رکھی ہے—۔فوٹو/ اے پی

ایبٹ آباد میں نوجوانوں نے پاکستان سے محبت کے اظہار کے لیے ہاتھوں میں سبز اورسفید بینڈز پہنے—۔فوٹو/ آن لائن

ایبٹ آباد میں نوجوانوں نے پاکستان سے محبت کے اظہار کے لیے ہاتھوں میں سبز اورسفید بینڈز پہنے—۔فوٹو/ آن لائن

لاہور میں ایک عمارت کے سامنے جشن آزادی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے دوران میوزیکل بینڈ پرفارم کرتے ہوئے—۔فوٹو/ رائٹرز

جناح یونیورسٹی، کراچی کی طالبات نے چہرے پر پاکستانی جھنڈے کے رنگوں کی مناسبت سے پینٹنگ کرا رکھی ہے—۔فوٹو/ پی پی آئی

لاہور میں ایک شخص ایک عمارت پر پاکستان کا جھنڈا لگاتے ہوئے—۔فوٹو/ رائٹرز

مینار پاکستان،لاہور کے سامنے سے پاکستان کا جھنڈا اٹھائے طالب علم گزر رہے ہیں—۔فوٹو/ آن لائن

 

 

 

 

 

10 غذائیں جو آپ کو جوان رکھیں

کون شخص ہے جو بڑھاپے کے آثار اپنے چہرے یا جسم پر دیکھنا پسند کرے؟ مگر عمر کا ایک دور ایسا آتا ہے جب شخصیت کے حوالے سے تشویش بڑھنے لگتی ہے۔

مگر کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جو ان فکروں سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ عمر کے لحاظ سے درست خوراک نہ صرف موٹاپے اور جسمانی دفاعی نظام کو قابو میں رکھتی ہے بلکہ ان کے چند فوائد ایسے ہوتے ہیں جو جھریوں سے تحفظ، بالوں کو چمک اور دیگر بڑھاپے کی علامات کو دور رکھتے ہیں۔

تو ایسی ہی چند غذاﺅں کے بارے میں جانے جو اپنے فیٹی ایسڈز، منرلز اور دیگر اجزاءکی بدولت جلد اور بالوں کو صحت مند رکھ کر آپ کی شخصیت کو جوان ظاہر کرتی ہیں۔

کافی

AdiL

ہر صبح کافی کا ایک کپ نہ صرف دن کا آغاز پرمسرت کرتا ہے بلکہ اس کے حیاتیاتی طور پر متحرک اجزاءآپ کی جلد کو رسولیوں سے بھی تحفظ دیتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کافی کا زیادہ استعمال لوگوں کی جلد کو ڈھلکنے سے بچاتا ہے جبکہ کینسر کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جھریوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

تربوز

موسم گرما میں پیاس بجھانے والا یہ پھل لائیکوپین نامی جز سے بھرپور ہوتا ہے۔ اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور یہ جز تربوز اور ٹماٹر کو سرخ رنگ دیتا ہے اور جلد کو سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے بچاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تربوز میں ٹماٹروں کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ نباتاتی کیمیکل ہوا ہے جو سن اسکرین کی طرح آپ کی جلد کی چمک دمک برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

انار

اس جادو اثر پھل کے بیج اینٹی آکسائیڈنٹس اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں اور چہرے کو جھریوں، خشکی اور دیگر عوارض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی کا استعمال درمیانی عمر میں جلد کو خشکی اور جھریوں کا امکان کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انار میں موجود اینتھوسیان جلد کو پرکشش انداز جبکہ ایلیجک ایسڈ سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصانات کی روک تھام کرتے ہیں۔

بلیو بیریز

یہ پھل چہرے کی سرخی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس پھل میں موجود وٹامن سی اور ای جلد کو جگمگاتے ہیں اور حلقوں وغیرہ کا مقابل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں پائے جانے والے دیگر اجزاءجلد کی رنگت کو سنوارنے کا کابھی کرتے ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

پالک سے لے کر ساگ تک یہ طاقت کے خزانے سے بھرپور سبزیاں کیروٹین نامی جز سے بھرپور ہوتی ہیں جو جلد کے خلیات کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ ان میں نمی کو برقرار رکھتا ہے جبکہ جلد کو ہونے والے نقصانات کو دور رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بلڈ پریشر پر قابو پانے کے لیے بھی ان سبزیوں کو اہم تصور کیا جاتا ہے۔

مشروم

مشروم میں ایک منرل سیلینیم شامل ہوتا ہے جو جلد کو سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق مشروم کا استعمال جسم میں تانبے یا کاپر کی سطح کو متوازن رکھتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے بالوں میں سفیدی جلد نہیں آپاتی یعنی بڑھاپا جلد آپ کی شخصیت پر قابو پانے میں ناکام رہتا ہے۔

انڈے

آپ کے انگلیوں کے ناخن پروٹین سے بنتے ہیں تو صاف ظاہر ہے جس میں پروٹین کی کمی انہیں کمزور کرسکتی ہے۔ اس سے تحفظ کے لیے انڈون کا استعمال زبردست ہے جو بی کمپلیکس وٹامن سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم میں پروٹین کی کمی نہیں ہونے دیتے۔ اس کے علاوہ انڈوں میں شامل پروٹین سے بلڈپریشر میں کمی آتی ہے اور امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

اخروٹ

By AdiL KhaN NiaXi NiaZi

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے بھرپور یہ خشک میوہ آپ کے بالوں میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان میں کاپر کی مقدار بھی کافی ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کے قدرتی رنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اس منرل کی کمی آپ کے بالوں کو قبل از وقت سفید کرسکتی ہے۔

آم

آم بیٹا کروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو آپ کی جلد کو اپنی مرمت خود کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور چہرے پر جھریوں کی آمد کو بھی روکتا ہے۔ اس کے علاوہ جلد کو ملائم رکھنے کے لیے بھی اس مزیدار پھل کا استعمال اہمیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ آم میں وٹامن اے بھی ہوتا ہے جو خلیات کو تحفظ دے کر انہیں تنزلی سے بچاتا ہے۔

خربوزے

خربوزوں میں بھی بیٹا کروٹین اور وٹامن اے پائے جاتے ہیں جو نہ صرف آپ کے سر کے جلدی خلیات کی نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ جلد کی اوپری تہہ کی چمک بھی بڑھاتے ہیں۔ یہ چہرے پر جلد کو مردہ ہوکر پرت کی شکل میں بھی تبدیل نہیں ہونے دیتے۔

قومی ترانہ: دھن، شاعری اور تنازعات

55cca1eb67ea5

قیامِ پاکستان کے بعد 7 برس تک پاکستان کا کوئی قومی ترانہ نہ تھا۔ بس ترانے تھے جو مختلف سرکاری تقریبات پر گائے جاتے تھے۔ پاکستانی قیادت کو آئین بنانے میں جتنی دشواریوں کا سامنا تھا، اتنا ہی قومی ترانہ بنانے میں۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ رہی ہوگی کہ ترانہ کس زبان میں لکھا جائے، کیونکہ پاکستان کے اکثریتی علاقے مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان بولی جاتی تھی، جبکہ مغربی پاکستان میں 4 زبانیں یعنی سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو بولی جاتی تھیں، جبکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی زبانوں سے ہٹ کر اردو کو قائدِ اعظم محمد علی جناح صاحب کی جانب سے قومی زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس بات پر مشرقی پاکستان میں بسنے والے بنگالی خاصے معترض تھے۔

عقیل عباس جعفری اپنی کتاب ”پاکستان کا قومی ترانہ: کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟“ میں لکھتے ہیں کہ:

”4 اگست 1954 کو کابینہ کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں حفیظ جالندھری کے لکھے گئے ترانے کو بغیر کسی ردو بدل کے منظور کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اجلاس میں کابینہ نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ اس ترانے کی موجودگی میں اردو اور بنگالی کے دو قومی نغمات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔“

پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کے خالق کا انتقال 5 فروری 1953 کو ہوا، جبکہ قومی ترانے کی دھن اور ترانے کی منظوری 4 اگست 1954 کو ہوئی۔ انہیں اپنی زندگی میں یہ دن دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ ان کی اس خدمت کا اعتراف بھی ایک بڑے عرصے بعد کیا گیا۔ جمیل زبیری اپنی کتاب ”یاد خزانہ ریڈیو پاکستان میں 25 سال“ کے صفحہ نمبر 21 پر قومی ترانہ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:

”پاکستان کے قومی ترانے کی دھن محمد علی چھاگلہ (کتاب میں شاید پروف کی غلطی کی وجہ سے احمد غلام علی کی جگہ محمد علی لکھ دیا گیا ہے لہٰذا ہم نے من و عن لکھ دیا ہے) نے بنائی۔ اس کے بعد اس دھن پر ترانے لکھنے کے لیے ملک کے تمام شعراء کو مدعو کیا گیا اور سب سے بہتر ترانے کا فیصلہ کرنے کے لیے حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

“جب چھاگلہ کی بنائی ہوئی دھن ریڈیو پاکستان میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے سنی تو انہوں نے سب سے پہلے نہال عبداللہ کمپوزر وغیرہ کو بٹھا کر اس دھن کو موسیقی کی زبان میں ”بانٹا“ اور پھر اس پر سب سے پہلے ترانے کے بول لکھے۔ اسی دوران میں حفیظ جالندھری اور دیگر شعراء کے لکھے ہوئے ترانے موصول ہوگئے۔ سارے ترانے کمیٹی کے سامنے رکھے گئے اور کمیٹی نے حفیظ جالندھری کے ترانے کو منظور کر لیا۔

“کہتے ہیں کہ بخاری اس پر کافی ناراض ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے انہوں نے ترانہ لکھا۔ بہر حال کمیٹی کا فیصلہ حتمی تھا۔ اس کے بعد ریڈیو پاکستان کے انگریزی پروگراموں کی سپروائیزر مسز فیلڈ برگ (Feld Berg) نے اس کی orchestration کرنے اور notation تیار کرنے کے لیے لندن بھیج دیا۔ جب یہ چیزیں تیار ہو کر ترانہ واپس آیا تو ریڈیو پاکستان میں اس کی ریکارڈنگ ڈائریکٹر جنرل بخاری اور حمید نسیم نے مل کر کی۔ گانے والوں میں نہال عبداللہ، دائم حسین، نظیر بیگم، رشیدہ بیگم، تنویر جہاں، کوکب جہاں، اور چند دیگر فنکار شامل تھے۔ اس طرح ریڈیو پاکستان نے ملک کا قومی ترانہ تیار کیا۔“

http://https://r14—sn-q4f7dnsz.c.docs.google.com/videoplayback?lmt=1392241534092925&sparams=dur,id,ip,ipbits,itag,lmt,mime,mm,mn,ms,mv,pl,ratebypass,requiressl,source,upn,expire&ratebypass=yes&ipbits=0&key=yt5&upn=KtJN61OROIM&fexp=9406007,9406514,9406993,9407700,9408710,9409069,9412779,9412928,9415365,9415485,9416023,9416126,9417278,9417707,9418153,9418703,9418986&signature=91027268EABF620F8394B91F080B58C7EF99A3B7.4972D19A4254A4FDD243B6AE002F81E05E3400AD&itag=18&pl=26&mn=sn-q4f7dnsz&mm=31&source=youtube&dur=133.816&mime=video/mp4&ip=107.178.195.200&requiressl=yes&sver=3&expire=1439574636&mv=m&mt=1439552969&ms=au&id=o-AH_mNKWVYvb-J1hWtjkeNwjtuZ6mzxadwxE_N-P7IUlC&signature=95.85.24.225

.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کب ترتیب دی گئی؟ اور کیا اس سے پہلے بھی کوئی قومی ترانہ تھا یا نہیں؟ سینیئر صحافی نعمت اللہ بخاری کا کہنا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ان کے اسکولوں میں ترانے کے لیے علامہ اقبال کی مشہور نظم ”چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا، مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا“ پڑھی جاتی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکن اقبال علوی کا کہنا ہے ان کے دور میں اقبال کی مشہور نظم ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ پڑھی جاتی تھی۔ لیکن کیا کہیے کہ یہ دونوں نظمیں پاکستان کا قومی ترانہ نہ بن سکیں۔ عقیل عباس جعفری کے مطابق 1960 میں امین الرحمٰن نے ایک مضمون میں پاکستان کے قومی ترانے کی دھن تیار کرنے کا قصہ یوں بیان کیا ہے:

”1950 کے اوائل میں ایران کے جواں سال حکمراں رضا شاہ پہلوی شہنشاہِ ایران، حکومت کی دعوت پر پاکستان کے سرکاری دورے پر تشریف لائے۔ شہنشاہِ ایران کے استقبال کی تقریب پر رواج و آداب کے لحاظ سے ضروری تھا کہ معزز مہمان کا استقبال قومی ترانے سے کیا جائے۔ چنانچہ سرکاری طور پر پاکستان کے قومی ترانے کی ضرورت شدید طور پر محسوس کی گئی۔

احمد غلام علی چھاگلہ اس سے پہلے ہمارے پڑھے لکھے موسیقی داں طبقے میں ایک ماہرِ موسیقی کی حیثیت سے غیر معروف نہ تھے۔ اس تنگ وقت میں جناب چھاگلہ نے صحت کی خرابی کے باوجود شب و روز محنتِ شاقہ سے کام کیا اور آخر کار پاکستان کے قومی ترانے کے لیے ایک مناسب دھن مرتب کر ہی لی۔ جب شہنشاہ ایران پاکستان تشریف لائے تو ہمارے بحریہ کے بینڈ نے اس ترانے کو شہنشاہ ایران کے استقبال کے موقع پر بجایا، جو اسے سن کر بہت متاثر ہوئے۔“

پاکستان کا پہلا قومی ترانہ کس نے لکھا، اس حوالے سے گزشتہ ایک دہائی سے دانشوروں اور صحافیوں کے درمیان ایک جنگ چل رہی ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا، اس ضمن میں جگن ناتھ آزاد کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کے مطابق جناح صاحب نے انہیں یہ کام سونپا تھا کہ وہ پاکستان کا قومی ترانہ لکھیں۔ تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جگن ناتھ آزاد نے کہیں بھی اپنے ترانے کو ترانہ نہیں کہا۔ لیکن یہ ایک جنگ ہے جو تا حال جاری ہے۔

سینیئر صحافی نعیم احمد نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ: ”مجھے نہیں لگتا کہ جگن ناتھ آزاد کو جناح صاحب نے قومی ترانہ لکھنے کا کہا ہوگا، اگر ایسا ہوتا تو جگن ناتھ آزاد اس بات کو فخریہ بتاتے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جناح کو اردو شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا اور نہ ہی جگن ناتھ آزاد اور جناح صاحب کبھی کسی شہر میں یکجا رہے ہیں۔”

اگر نعیم صاحب کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کی کیا دلیل ہے کہ اردو سے ناواقف ہونے کے باوجود قائدِ اعظم کا اصرار تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی، حالانکہ سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں بسنے والے ان کی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بنگالی چاہتے تھے کہ پاکستان کا قومی ترانہ ایسا ہو جس میں بنگالی زبان کے الفاظ بھی شامل ہوں۔ لیکن ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

عقیل عباس جعفری اپنی مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 37 پر لکھتے ہیں کہ:

”ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ کے مطالعے اور ڈاکٹر صفدر محمود کی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات پایہء ثبوت کو پہنچتی ہے کہ 14 اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب ریڈیو پاکستان کی اولین نشریات میں جگن ناتھ آزاد کا کوئی نغمہ یا کوئی ترانہ شامل نہ تھا۔ ممکن ہے کہ جگن ناتھ کا تحریر کردہ نغمہ جسے وہ خود ترانہ اور ان کے مداحین قومی ترانہ کہنے پر مصر ہیں، بعد میں کسی اور وقت نشر ہوا ہو، مگر ابھی تک ریڈیو پاکستان کا کوئی ریکارڈ یا ریڈیو پاکستان سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی کوئی تحریر اس کی بھی تصدیق نہیں کر سکی ہے۔“

جمیل زبیری نے اپنی کتاب ”یاد خزانہ، ریڈیو پاکستان میں 25 سال“ کے ابتدائیے میں ایک انکشاف کیا ہے کہ سندھ کے پہلے ریڈیو اسٹیشن نے 4 اگست 1947 کو اپنے کام کا آغاز کیا۔ اس ریڈیو اسٹیشن کے قیام کا بنیادی خیال ایس کے حیدر نامی شخص کو تھا جن کی کراچی میں ریڈیو کی دکان تھی۔ انہوں نے اس سلسلے میں اے ایم چھاگلہ سے مشورہ کیا اس کے بعد وہ دونوں حکومتِ سندھ کے اس وقت کے ایک مشیر اڈنانی سے ملے اور کچھ پرانے ٹرانسمیٹروں کی مرمت کر کے تین کمروں پر مشتمل ایک ریڈیو اسٹیشن بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کا نام ”سندھ گورنمنٹ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن“ رکھا گیا۔ 10 اگست سے اس کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوگیا۔ 14 اگست 1947 کو اس اسٹیشن سے پاکستان کے قیام اور قائدِ اعظم کے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھانے کی کارروائی کا آنکھوں دیکھا حال نشر کیا گیا۔ اس ریڈیو اسٹیشن کی نشریات صرف دس روز جاری رہیں۔ 20 اگست 1947 کو اسے بند کر دیا گیا کیوں کہ وائرلیس ایکٹ کے تحت کوئی بھی صوبائی حکومت ریڈیو اسٹیشن نہیں چلا سکتی تھی۔“

کراچی کے حوالے سے معروف محقق گل حسن کلمتی اپنی کتاب ”کراچی کے لافانی کردار“ کے صفحہ نمبر241 پر لکھتے ہیں:

”ممکن ہے اسی تجرباتی ریڈیو اسٹیشن سے جگن ناتھ آزاد کا ترانہ بھی نشر کیا گیا ہو، لیکن اس بات کی تصدیق کرنے والوں میں سے اب کوئی بھی حیات نہیں۔ اس میں مزید تحقیق کی گنجائش ہے۔“

http://playit.pk/embed/Mz49Ww-jnMY

قومی ترانے کی دھن 1950 میں ترتیب دی گئی، لیکن اس قومی ترانے کی منظوری آزادی کے تقریباً 7 سال بعد 1954 میں ہوئی۔ چھاگلہ صاحب نے یہ دھن بنائی اور بڑی محنت سے بنائی۔ اس کا اندازہ دھن سنتے ہی ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اپنی زندگی میں اس دھن کی منظوری نہ دیکھ سکے اور نہ ہی اس حوالے سے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی اس بے بہا خدمت کا اعتراف کیا گیا۔ ان کی اس خدمت کے صلے کے لیے ان کے خاندان کو تقریباً 46 برس تک انتظار کرنا پڑا۔ گل حسن کلمتی اپنی کتاب ”کراچی کے لافانی کردار“ کے صفحہ نمبر 242 پر لکھتے ہیں کہ:

”آخرکار 43 سال بعد 1996 میں محترمہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں احمد علی چھاگلہ صاحب کو صدارتی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ یہ ایوارڈ چھاگلہ صاحب کے فرزند عبدالخالق چھاگلہ جو کہ امریکی ریاست ہیوسٹن میں مقیم ہیں، انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں 23 مارچ 1997 میں پاکستانی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی تقریب میں وصول کیا۔“ چلیں ”دیر لگی آنے میں تم کو، شکر ہے پھر بھی آئے تو“۔

حفیظ جالندھری کا انتقال 21 دسمبر 1982 کو ہوا۔ حکومتِ پاکستان حفیظ جالندھری کی اس خواہش پر ایک عرصے تک غور کرتی رہی کہ انہیں ان کی خواہش کے مطابق علامہ اقبال کے پہلو میں دفنایا جائے یا کہیں اور۔ معروف مؤرخ اور محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل کے مطابق حکومت پاکستان ان کی یہ آخری خواہش پوری نہ کر سکی۔ ابتداء میں انہیں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا۔ بعد ازاں مینارِ پاکستان کے باغ میں ان کا مقبرہ بنا کر انہیں وہاں دفن کیا گیا۔ یہ تھا پاکستان کے قومی ترانے کی دھن اور شاعری کا قصہ۔

اختر بلوچ سینیئر صحافی، لکھاری، اور محقق ہیں۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کونسل ممبر ہیں۔ وہ سوشیالوجی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

محبت دنیا کا سب سے خوبصورت جذبہ یا؟

محبت زندگی کا وہ جذبہ جسے متعدد افراد سب سے طاقتور جذبہ مانتے ہیں، ہم سب ہی اس کے خواہشمند ہوتے ہیں اور ہر جگہ آپ کو اس کا جلوہ نظر آتا ہے۔

مگر کیا محبت ایک نشہ ہوتی ہے؟ سائنس کے مطابق تو ایسا بالکل ممکن ہے درحقیقت محبت کی آگ سر سے لے کر پیروں تک محسوس ہوتی ہے اور آپ کو زیادہ گرمجوش اور اپنا ارگرد دھندلا دھندلا سا نظر آنے لگتا ہے۔

اور اس سے بھی بڑھ کر یہ آپ کے سوچنے اور اقدام کرنے کا انداز تک بدل کر رکھ سکتا ہے۔

تو محبت کے ایسے ہی انوکھے اثرات جانیے جو آپ کے جسم اور ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جن پر سائنس نے بھی مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

یہ آپ کو ہوا میں اڑا سکتی ہے

55ccd4baa7743

جب کوئی نیا نیا محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو انتہائی فرحت اور خوشی محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کا تعلق محبوب سے ہونے والی ملاقاتوں سے بالکل بھی نہیں ہوتا، ہے ناں عجیب بات مگر نیویارک کے البرٹ آئن اسٹائن میڈیکل کالج کے سائنسدانوں نے جب محبت کے گرفتار طالبعلموں کے دماغوں کا اسکین کیا تو معلوم ہوا کہ اس سے دماغ کا وہی نظام سرگرم ہوجاتا ہے جو کوکین لینے پر ہوتا ہے۔ اس سے محبت میں گرفتار شخص راحت محسوس کرنے لگتا ہے۔ تو یہ کوئی دیوانہ پن نہیں یہ تو ہمارے دماغ کی کارستانی ہے۔

محبت کرسکتی ہے آپ کو احمق

55ccd4b95cad0

محبت کم از کم آپ کو اپنے ارگرد کے ماحول سے بے خبر تو کر ہی دیتی ہے۔ 2013 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ محبت میں گرفتار ہوتے ہیں ان کے اندر کسی کام کو کرتے وقت زیادہ توجہ مرکوز کرنے اور اسے پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان کی مشکل اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب انہیں کوئی خاص وقت میں کام کرنا ہوتا ہے۔

محبت بنا دیتی ہے آپ کو خود غرض

55ccd4bc51222

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ دو بہترین دوست ایک لڑکی کو پسند کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں مگر محبت کے نام پر اس شدید نفرت کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟ کیا یہ آپ کو معلوم ہے؟ جریدے پرسنلٹی اینڈ سوشل سائیکولوجی بلیٹن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اس سوال کا جواب دماغی ہارمونز کے اس حصے میں چھپا ہوتا ہے جن کا تعلق جارحیت اور خودترسی سے ہے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب کوئی محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ اپنی محبوب یا محبوبہ کے قریب ہونے والے فرد کے حوالے سے جارحانہ رویے کا حامل ہوجاتا ہے۔ درحقیقت جب آپ کسی کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو یہ ہارمونز آپ کے دماغ کو حفاظتی جارحیت پر اکسانے لگتے ہیں اور آپ اپنے محبوب کے دفاع کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اب چاہے وہ رقیب ہو، کوئی پرتناﺅ واقعہ بلکہ اداسی تک میں۔

آپ خود کو سمجھنے لگتے ہیں ناقابل شکست

55ccd4bc2a542

کیا کبھی آپ کو حیرت ہوتی ہے کہ اپنے شریک حیات کو چھوتے ہی آپ کے جسم سے خارش کیسے غائب ہوجاتی ہے؟ نہیں یہ کوئی اتفاق نہیں۔ امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق محبت کے شدید جذبے سے متاثر ہونے والے دماغ کے مختلف حصے وہی ہوتے ہیں جنھیں کوئی درد کش دوا اپنا ہدف بناتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کسی تکلیف کے شکار ہیں تو بس محبوب کی تصویر کا جلوہ ہی آپ کے درد کو کم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے کیونکہ اس سے اعصابی سطح پر درد کو روکنے والے عصبی خلیے حرکت میں آجاتے ہیں جیسا کوئی دردکش گولی کا اثر ہوتا ہے۔

محبت میں گرفتار جوڑوں کے دل کی دھڑکن بھی ہوتی ہے یکساں

55ccd4bc734cd

مانیں یا نہ مانیں مگر محبت میں گرفتار جوڑوں کے دل بھی یکساں ردھم سے دھڑکتے ہیں۔ کم از کم امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں تو یہی دعویٰ سامنے آیا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق محبت میں گرفتار جوڑے جب ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوں تو ان کے سانس لینے کا عمل اور دل کی دھڑکن یکساں ہوجاتی ہے، چاہے وہ ایک دوسرے سے بات نہ کر رہے ہوں یا ہاتھ پکڑے ہوئے نہ ہوں۔ تحقیق کے مطابق ایسا اجنبی افراد کے ساتھ نہیں ہوتا۔

اپنے جیسے فرد کا نظارہ کردیتا ہے محبت کا جادو

55ccd4bbe8f09

لوگوں میں ایسی شخصیت کی محبت میں گرفتار ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جسے دیکھ کر انہیں اپنا آپ یاد آجائے۔ اب چہرے، بالوں یا آنکھوں کی رنگت بلکہ کئی بار تو کانوں کی ساخت میں بھی اپنی مماثلت کسی کو دیوانہ بنا دینے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔ اور جب ہی تو آپ کو کئی بار ایسے جوڑے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے جنھیں دیکھ کر پہلی نظر میں گمان گزرتا ہے کہ وہ تو بہن بھائی ہیں۔

محبوب کا دل جیتنے کا آسان نسخہ

55ccd4d94dc82

اگر تو آپ اپنی شریک حیات کا دل جیتنا چاہتے ہیں تو اسکا سب سے بہترین طریقہ ایک گرم چائے یا کافی کا کپ اپنے ہاتھ سے بناکر پیش کردینا ہے۔ ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ اپنی نصف بہتر کی پسند کا گرم مشروب خود بناکر پیش کردیں تو اس سے باہمی تعلق مضبوط اور محبت بڑھتی ہے۔اسی طرح بیویوں کیساتھ چائے یا کافی شیئر کرنا بھی کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔بھارت میں ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عمل الفاط کے مقابلے میں زیادہ بلند آہنگ ہوتا ہے جس سے کوئی بھی اپنی محبت کا اظہار کرسکتا ہے۔

محبت سے دور ہوجاتا ہے سردی کا احساس

55ccd4cfc9070

چاہے جانے کا احساس انسان کو اندر سے روشن اور دماغی سرگرمیوں کو بڑھا دیتا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق محبت کا جذبہ انسان کو دماغی طور پر مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی سرد موسم میں گرمی کا احساس دلاتا ہے۔ تحقیق میں مزید یہ امر سامنے آیا ہے کہ دوسرے سے قربت سے ہمارے اندر دماغی سرگرمیاں بڑھتی ہیں اور ایک جسم گرم رکھنے والے عنصر بھی سرگرم ہوجاتا ہے۔

محبت میں گرفتار مردوں کی رفتار ہوجاتی ہے سست

55ccd4bceda46

جب کوئی مرد کسی خاتون کیساتھ اپنی معمول کی رفتار سے آہستہ چل رہا ہو تو سمجھ لیں کہ وہ اس حسینہ کی محبت میں گرفتار ہے۔ سیٹل پیسیفک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق عام طور پر مرد خواتین کے مقابلے میں زیادہ تیز چلتے ہیں، کیونکہ چلنے کی رفتار سے ہی جسمانی تبدیلی اور توانائی کے اخراج کا اندازہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے بقول جب خواتین ساتھ ہو مرد اپنی رفتار کم کرلیتے ہیں مگر یہ بھی اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اس خاتون کی محبت میں گرفتار ہوں، اگر وہ دوست ہو تو اس کیلئے وہ اپنی رفتار میں کوئی کمی نہیں لاتے۔

محبت اندھی نہیں ہوتی

55ccd4bcce75d

کہا جاتا ہے کہ مرد ہمیشہ خواتین کی خوبصورتی پر متوجہ ہوتا ہے جبکہ صنف نازک اپنے شریک حیات کیلئے اعلیٰ سماجی طبقے کو ترجیح دیتی ہیں اور اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔ سنگاپور منیجمنٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق یہ خیال غلط ہے کہ محبت اندھی ہوتی ہے اور کسی خامی کو نہیں دیکھتی درحقیقت مرد نسوانی خوبصورتی کے دیوانے بنتے ہیں جبکہ خواتین کی نظر ہمیشہ اعلیٰ حیثیت مردوں پر ہوتی ہے۔

محبت کردیتی ہے لوگو ں کو موٹا55ccd4bcb9e30

محبت فاتح عالم جذبہ قرار دیا جاتا ہے مگر جی یہ تو آپ کو موٹا بھی بناسکتا ہے۔ ایک برطانوی سروے کے مطابق قابل اطمینان یا دلی تعلق لوگوں کو موٹاپے کی جانب مائل کردیتا ہے۔ سروے کے مطابق 62 فیصد افراد نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ محبت میں مبتلا ہونے کے بعد سے انکا جسمانی وزن کافی بڑھا تھا جبکہ 72 فیصد کے خیال میں وہ تو نہیں مگر ان کا محبوب ضرور موٹا ہوگیا ہے۔

جدید دور میں مرد ہونے لگے پہلی نظر میں کیوپڈ کے شکار55ccd4b8d1807

یہ بات تو اب سچ ہوگئی ہے کہ اس جدید دور میں حقیقی محبت تلاش کرنا آسان نہیں اور مرد حضرات تو ہر وقت کیوپڈ کے تیر کا ہدف بننے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک سروے نما تحقیق کے مطابق اب بیشتر افراد پہلی ملاقات میں ہی دل ہار بیٹھتے ہیں، خصوصاً مرد اس معاملے میں خواتین سے بہت آگے ہیں جن کی 29 فیصد اکثریت کسی بھی نئی خاتون سے ملتے ہی اپنا دل ہار بیٹھتی ہے۔

قائد ملت لیاقت علی خان کو امریکا نے قتل کروایا،امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ

348068-liaqatAliKhan-1429242937-395-640x480

اسلام آباد:  امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ری کلاسیفائیڈ کی جانے والی دستاویزات کے مطابق قائدملت لیاقت علی خان کو امریکانے افغان حکومت کے ذریعے قتل کروایا،امریکی منصوبے کے تحت افغان حکومت کے تیارکردہ قاتل کو 2 ساتھی ملزمان نے قتل کیااوردونوں معاون قاتل ہجوم نے روند دیے اس طرح قائدملت کاقتل ایک سربستہ رازبن گیا۔

یہ دستاویزات اگرچہ59سال پرانی ہیں مگرپاکستان کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی ان دستاویزات میں اس جرم سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایاگیاہے کہ امریکااس وقت ایران کے تیل کے چشموں پرنظررکھتاتھااوریہ بھی جانتاتھاکہ اس دورمیں ایران اورپاکستان کے تعلقات بہت زبردست ہیں اوران دنوں 1950-51میں افغانستان پاکستان کادشمن شمارہوتاتھا اور افغانستان واحدملک تھاجس نے پاکستان کوتسلیم نہیں کیا تھا۔

اس وقت امریکی صدرنے قائد ملت لیاقت علی خان سے سفارش کی تھی کہ اپنے قریبی دوستوں ایرانیوں سے کہہ کر تیل کے کنوؤں کاٹھیکہ امریکاکودلوا دیں اس پر لیاقت علی خان نے دو ٹوک جواب دیا کہ میں ایران سے اپنی دوستی کاناجائز فائدہ نہیں اٹھاناچاہتااورنہ ہی ان کے داخلی معاملات میں مداخلت کروں گا، اگلے روز امریکی صدرٹرومین کالیاقت علی خان کو دھمکی آمیز فون موصول ہواملیاقت علی خان نے جواب میں کہا کہ میں ناقابل خریدہوں اورنہ کسی کی دھمکی میں آنے والا ہوں ۔

یہ کہہ کر فون بند کر دیااور حکم دیا کہ آئندہ 24گھنٹوں کے اندر پاکستان میں امریکاکے جتنے طیارے کھڑے ہیں  وہ پرواز کرجائیں اور اپنے ملک کو واپس چلے جائیں، ادھر واشنگٹن ڈی سی میں اسی لمحے ایک میٹنگ ہوئی اورطے ہوا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان ہمارے کام کاآدمی نہیں ہے، امریکا نے پاکستان میں ایک کرائے کے قاتل کی تلاش  شروع کردی اس زمانے میں اس کاسفارتخانہ کراچی میں تھا جو پاکستان کادارالخلافہ تھا،امریکاکو پورے پاکستان میں کرائے کاایک قاتل نہیں مل سکا پھرواشنگٹن ڈی سی سے کراچی میں امریکی اورکابل کے سفارتخانے کوفون کیاکہ قاتل کوافغانستان میں تلاش کیاجائے۔

امریکا نے شاہ ظاہرشاہ کو یہ لالچ دیا کہ اگر تم لیاقت علی خان کا قاتل تیار کرلو تو ہم صوبہ پختونستان کوآزاد کرا لیں گے افغان حکومت تیار ہو گئی بلکہ 3آدمی ڈھونڈے، ایک توسیداکبر تھا جسے گولی چلانی تھی،2مزید افراد تھے جنھوں نے اس موقع پر سید اکبرکوقتل کر دیناتھاتاکہ کوئی نشان کوئی گواہ باقی نہ رہے اورقتل کی سازش دب کررہ جائے تو16اکتوبرسے ایک دن پہلے سیداکبراوراس کے وہ ساتھی جنھیں وہ اپنا محافظ سمجھتاتھا،تینوں راولپنڈی آئے۔ایک ہوٹل میں رکے  اورقبل از وقت کمپنی باغ میں اگلی صفوں میں بیٹھ گئے،سید اکبرنے دو نالی رائفل چھپارکھی تھی، لیاقت علی خان جلسہ گاہ آئے اور اپنے خاص اندازمیں کھڑے ہو کر کہا برادران ملت توسیداکبر نے اپنے کوٹ سے رائفل نکال کر2فائرکیے جو سیدھے بدقسمتی سے لیاقت علی خان کے سینے پر لگے ،ان کے آخری الفاظ یہ تھے خداپاکستان کی حفاظت کرے۔

ادھر سید اکبر کے جومحافظ بھیجے گئے تھے انھوں نے سید اکبرکوقتل کر دیا اور مشتعل ہجوم نے محافظوں اورسید اکبر کو پیروں تلے ایساروندھا کہ ہمیشہ کے لیے وہ سازش چھپ کررہ گئی،اب ڈی کلاسیفائی ڈاکومنٹس نے اس معاملے کوواضح کیاہے۔واضح رہے کہ نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے حوالے سے آج تک مختلف کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں لیکن 60سال بعد امریکی محکمہ خارجہ نے یہ سارے رازافشاکردیے ۔

قائد ملت لیاقت علی خان کو امریکا نے قتل کروایا،امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ