!میرا دل، میری جان، پاکستان پاکستان

اگست 1947 ایک سبز ہلالی پرچم دنیا کے نقشے پر اُبھرا، ایک ایسی مملکت جس کے حصول کے لیے لاکھوں لوگوں نے جانیں قربان کیں لیکن آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ قائد کی انتھک محنت، کاوش اور قربانیوں کا زندہ پیکر، اے سوہنی دھرتی تیری آزاد اور پاک فضائیں ہی تو بھاتی ہیں تیرے متوالوں کو، تیرے بیٹے سرحدوں پار اور سرحدوں کے اندر بھی دہشت گردوں اور تیرے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔

تیرے گلستان، پربت، جھیل، دریا تیرے حسن و پاکیزگی کے عکاس ہیں۔ اس آزادی کو محسوس کرو ان پاک فضاؤں میں، اس مٹی کی سوندھی مہک میں رب کا شکر ادا کرو۔ اس بیش قیمت نعمت کے لئے، اے عزیزِ من سب پاکستانیوں کا عزم ہے تیری سلامتی اور تیری ترقی، آزادی کاجشن برپا ہے اس وطن کی گلیوں، محلوں میں، آزادی کی خوشی عیاں ہے ان سبز پوشاکوں ان چمکتے چہروں سے ۔

یہ ذوق یہ شوق، میرے وطن تیرے جشن منانے کے لئے ہم سجائیں گے اس ارضِ زمیں کو، خود کو، یہ تیاریاں، سجاوٹ آزادی کا احساس ہی تو ہیں۔

اس جھنڈے سے اب قوم کی لاج ہے، اس جھنڈے پہ سب کی نظر آج ہے

جان سے کیوں نہ ہم کو یہ پیارا رہے، چاند روشن چمکتا ستارہ رہے

تو ہی تو ہے میرا گھر، میرے چمن، میرے وطن، میرے مقدر میں ہے ارضِ پاک پر بکھرا میرا رزق ۔۔۔

میں پاکستانی ہوں، تن سے بھی اور من سے بھی، میرا دل، میرا چہرہ پاکستانی، میرا پہنا وا، سج دھج بھی پاکستانی

آزادی ایک جنون، ایک جہدِ مسلسل، منتقل کرنا ہے مجھے، اپنی نسل کو شعور دینا ہے ارضِ پاک سے محبت کا، تعمیر کا

میرا دل، میری جان پاکستان، میری پہچان، میری شان، نثار تجھ پر جان، سدا جیوے میرا پیارا پاکستان

اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے یہ وطن، یہ آزادی تیری جہدوجہد، کاوشوں کا مظہر ہے، اے قائد تجھے سلام

یہ سبز پہناوا ہی تو پہچان ہے، میری آرائش کا سامان، کیوں نہ اس رنگ میں ہی سب رنگ جائیں، بچے، بوڑھے اور جوان

نثار تیری گلیوں کے اے وطن، یہ رونق، یہ شادمانی، اے پاک دھرتی کسی دشمن کے کی میلی نظر ان چمکتے چہروں پر نہ پڑے، سلامت رہیں تیرے بیٹے

ہوا کے دوش پر لہراتا یہ سبز ہلالی پرچم سدا اونچا ہی رہے گا، تیرے رکھوالے اس پرچم کو سر بلند رکھنے کے لئے ہیں پرعزم۔

Advertisements