Daily Archives: August 19th, 2015

!میرا دل، میری جان، پاکستان پاکستان

اگست 1947 ایک سبز ہلالی پرچم دنیا کے نقشے پر اُبھرا، ایک ایسی مملکت جس کے حصول کے لیے لاکھوں لوگوں نے جانیں قربان کیں لیکن آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ قائد کی انتھک محنت، کاوش اور قربانیوں کا زندہ پیکر، اے سوہنی دھرتی تیری آزاد اور پاک فضائیں ہی تو بھاتی ہیں تیرے متوالوں کو، تیرے بیٹے سرحدوں پار اور سرحدوں کے اندر بھی دہشت گردوں اور تیرے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔

تیرے گلستان، پربت، جھیل، دریا تیرے حسن و پاکیزگی کے عکاس ہیں۔ اس آزادی کو محسوس کرو ان پاک فضاؤں میں، اس مٹی کی سوندھی مہک میں رب کا شکر ادا کرو۔ اس بیش قیمت نعمت کے لئے، اے عزیزِ من سب پاکستانیوں کا عزم ہے تیری سلامتی اور تیری ترقی، آزادی کاجشن برپا ہے اس وطن کی گلیوں، محلوں میں، آزادی کی خوشی عیاں ہے ان سبز پوشاکوں ان چمکتے چہروں سے ۔

یہ ذوق یہ شوق، میرے وطن تیرے جشن منانے کے لئے ہم سجائیں گے اس ارضِ زمیں کو، خود کو، یہ تیاریاں، سجاوٹ آزادی کا احساس ہی تو ہیں۔

اس جھنڈے سے اب قوم کی لاج ہے، اس جھنڈے پہ سب کی نظر آج ہے

جان سے کیوں نہ ہم کو یہ پیارا رہے، چاند روشن چمکتا ستارہ رہے

تو ہی تو ہے میرا گھر، میرے چمن، میرے وطن، میرے مقدر میں ہے ارضِ پاک پر بکھرا میرا رزق ۔۔۔

میں پاکستانی ہوں، تن سے بھی اور من سے بھی، میرا دل، میرا چہرہ پاکستانی، میرا پہنا وا، سج دھج بھی پاکستانی

آزادی ایک جنون، ایک جہدِ مسلسل، منتقل کرنا ہے مجھے، اپنی نسل کو شعور دینا ہے ارضِ پاک سے محبت کا، تعمیر کا

میرا دل، میری جان پاکستان، میری پہچان، میری شان، نثار تجھ پر جان، سدا جیوے میرا پیارا پاکستان

اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے یہ وطن، یہ آزادی تیری جہدوجہد، کاوشوں کا مظہر ہے، اے قائد تجھے سلام

یہ سبز پہناوا ہی تو پہچان ہے، میری آرائش کا سامان، کیوں نہ اس رنگ میں ہی سب رنگ جائیں، بچے، بوڑھے اور جوان

نثار تیری گلیوں کے اے وطن، یہ رونق، یہ شادمانی، اے پاک دھرتی کسی دشمن کے کی میلی نظر ان چمکتے چہروں پر نہ پڑے، سلامت رہیں تیرے بیٹے

ہوا کے دوش پر لہراتا یہ سبز ہلالی پرچم سدا اونچا ہی رہے گا، تیرے رکھوالے اس پرچم کو سر بلند رکھنے کے لئے ہیں پرعزم۔

!کچھ ذکر حمید گل مرحوم کا

384193-HamidGul-1439806212-178-640x480

screenshot-www express pk 2015-08-19 12-09-03یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

ہفتے کی رات ساڑھے گیارہ بجے سی ایم ایچ پسپتال مری میں قوم کے عظیم سپوت جنرل ریٹائرڈ حمید گل قضائے الہی سے انتقال کرگئے ۔

ہر ذی روح اللہ کی امانت ہے اور اس نے پلٹ کر اللہ کے ہی دربار میں جانا ہے۔ جب اللہ پاک انبیاء علیہ السلام، صحابہ کرام، اولیا اللہ، محدثین، مجددین، مجاہدین کی روحوں کو قبض کر سکتے ہیں تو اللہ نے جنرل صاحب کو بھی اپنے دربار میں واپس بلانا ہی تھا۔ جنرل حمید گل اب زندہ سے مرحوم ہوگئے اور اب اُن کے نام کے ساتھ مرحوم کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔ یہی انسان ہے، یہی اس کی زندگی ہے اور یہی اس کی زندگی کی حقیقت بھی ہے۔

Gen. Hameed Gul, though controversial, was a staunch patriot & a brilliant strategic mind history will remember! May Allah bless his soul!

— Moeed Pirzada (@MoeedNj) August 16, 2015

جنرل صاحب سابق ڈی جی آئی ایس آئی بھی رہے ہیں۔ آپ نے آئی ایس آئی کی قیادت 1987 سے 1989 کے مشکل دور میں کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین سے جنگ اپنے آخری مراحل میں تھی۔ جنرل صاحب کی بہترین حکمت عملی نے اس جنگ کو پاکستان کے علاقوں میں منتقل ہونے سے روکا تھا۔ بہت سے روسی اور امریکی دانشور جنرل صاحب کو سویت یونین کے ٹکڑے کرنے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہیں۔

جنرل حمید گل قیامِ پاکستان سے قبل 20 نومبر 1939ء میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق یوسف زئی قبیلے سے تھا۔ آپ کا خاندان سوات کا رہنے والا تھا۔ جس نے سوات سے سرگودھا ہجرت کی تھی۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی حاصل کی، جس کے بعد آپ گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے۔ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد حمید گل نے فوجی اکیڈمی، پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول رپورٹ کیا۔ 1956ء میں آپ کو پاکستان آرمی میں کمیشن ملا اور آپ نے اپنے ملٹری کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1965ء کی جنگ میں آپ اسکوارڈن کمانڈر رہے تھے۔ 1968ء میں آپ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ چلے گئے۔ 1972ء سے 1976ء کے دور میں آپ نے جنرل ضیاء الحق کے ساتھ بٹالین کمانڈر کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دیے۔ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ تعلقا ت کی وجہ سے ہی بے نظیر بھٹو نے ڈی جی آئی ایس آئی کی پوزیشن سے ہٹایا تھا۔ جنرل صاحب نے دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے محاذ آرائی سے گریز کیا اور جمہوریت کی خاطر اپنی پوسٹ بھی جانے دی تھی۔ اس کے بعد جنرل حمید گل نے 1989ء میں ضربِ مومن کے نام سے بڑی جنگی مشقیں کی تھیں اور بھارت کے جنگی عزائم کو اسی وقت ٹھنڈا کر دیا تھا۔ 1991ء میں جنرل آصف نواز کے دور میں جنرل حمید گل نے آرمی سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

جنرل صاحب کی وجہ شہرت جہاد سے دلچسپی تھی۔ پاکستان کی بیشتر خرابیوں کا ذمہ دار آپ لبرل اور لیفٹ کے طبقے کو سمجھتے تھے، اور بہت سے انٹرویوز میں اس بات کا اظہار بھی کر چکے تھے۔

جذبہ جہاد سے سرشار اس مرد مجاہد نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے دماغ کو ریٹائر نہیں ہونے دیا تھا۔ 78 سال کی عمر میں بھی مکمل رعب کے ساتھ اپنی مخصوص گرجدار آواز میں بھارت کو للکارا کرتے تھے۔ بھارت میں جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اُن کا خوف تھا اور امریکہ کیلئے وہ درد سر بنے رہے تھے۔

جنرل صاحب نے امریکیوں کے ساتھ بھی کام کیا تھا اور آپ ان کی رگ رگ سے واقف تھے۔ آپ کا شمار ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جنہوں نے نائن الیون کے بعد اولین دور میں نا صرف نائن الیون کے سانحے پر سوالیہ نشان اٹھائے تھے بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ اصل میں یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ آپ کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ

’’نائن الیون بہانہ ہے، افغانستان ٹھکانہ ہے، پاکستان نشانہ ہے ۔‘‘

آپ کی پاکستان سے محبت کسی بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کوئی بھی باشعور فرد، خواہ اس کا تعلق بائیں ہاتھ کے طبقے سے ہی کیوں نہ ہو، آپ کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھا سکتا ہے۔ جنرل صاحب امریکہ کے بڑے نقادوں میں سے ایک تھے اور آپ نے ہمیشہ کھل کر امریکہ پر تنقید کی ہے۔ جنرل صاحب نے کھل کر جہاد کشمیر کی حمایت کی ہے۔ آپ نے وکلاء تحریک میں عدلیہ کا ساتھ بھی دیا ہے۔ آپ نے اسامہ بن لادن کو تب ہیرو کہا تھا جب پاکستان میں بن لادن کا نام لیتے ہوئے بھی لوگ گھبراتے تھے۔ جنرل صاحب کی دلیری کی وجہ سے ہی بھارت نے آپ کو اپنی موسٹ وانٹڈ لسٹ میں رکھا تھا۔ امریکہ نے جہاد سے لگاؤ کی وجہ سے ہی جنرل صاحب کا نام بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالا تھا اور پھر یہ نام اقوام متحدہ میں بھی دیے تھے جن کو چین نے ویٹو کردیا تھا۔

جنرل صاحب امریکہ کو پاکستان کا دشمن کہتے تھے اور مجھے اب یہ بھی کہنے دیں کہ جن بنیادوں پر جنرل صاحب نے امریکہ کو دشمن ڈکلیئر کیا تھا وہ سب درست تھی۔ جولائی 2010ء میں وکی لیکس نے کچھ ڈاکومنٹس شائع کئے تھے، یہ 92 ہزار ڈاکومنٹس افغان جہاد 2004 سے 2009ء متعلق تھے۔ ان دستاویزات میں جنرل صاحب کو افغان طالبان کا ساتھ دینے پر مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

میری جنرل صاحب سے زندگی میں دو ایک ملاقاتیں ہیں۔ میں نے ہمیشہ ان کو شفیق اور محبت کرنے والا پایا ہے۔ جنرل صاحب سے مختلف موضوعات پر گائیڈ لائن بھی لیا کرتے تھے۔ میرے لئے وہ استادوں کی طرح ہی تھے۔ جنرل صاحب کے بیٹے عبداللہ گل سے بھی میری دوستی ہے۔ یہ بھی اپنے باپ کی طرح سے امت کا درد دل میں رکھتے ہیں اور جب بھی بات کرتے ہیں تو بہت ہی محبت سے بات کرتے ہیں۔ جنرل صاحب بلاشبہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی شخصیت تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اسنائپر کی گولی ایک کلومیٹر کے فاصلے سے بھی نشانہ خطا نہیں کرتی ہے۔ 4 انچ کی گولی اگر انسان کی جان لے سکتی ہے تو میں موت سے کیوں ڈروں۔ اگر میرے نصیب میں شہادت ہوئی تو میں شہید ہوجاؤں گا، ورنہ موت تو آنی ہے۔ جنرل صاحب صحیح معنوں میں پاکستانی اور مجاہد تھے، جنہوں نے آخری وقت تک پاکستان کا ہر محاذ پر دفاع کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ اُن کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں۔ اُن کی کوتاہیوں کو معاف کرتے ہوئے اُن کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کریں۔ جنرل صاحب، آپ سے انشااللہ اب رب کی جنتوں میں ملاقات ہوگی، بلاشبہ آپ نے اپنا فرض احسن طریقے سے پورا کیا ہے۔ تب تک کیلئے اللہ حافظ ، پاکستان زندہ باد۔

قدر کیجیے کہ پاکستان ایک نعمت ہے!

 

ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکمرانوں کوٹھہراتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں منتخب کرکے ایوانوں میں بھی ہم ہی بھیجتے ہیں۔

یار! یہاں کا سارا سسٹم ہی خراب ہے۔ خدا کی قسم! نفل ادا کروں گا جب اس ملک سے جان چھوٹے گی میری، عاصم جو ایم ایس سی کا امتحان تو پاس کرچکا تھا مگر ڈگری حاصل کرنے کے لیے پچھلے دو ماہ سے خوار ہو رہا تھا اور اپنے دوست طاہر سے مخاطب تھا جو اُس کا کلاس فیلو بھی تھا۔

کیا ہوگیا ہے یار! بھلا اپنے ہی ملک کے بارے میں کوئی ایسے بولتا ہے کیا؟ تو اورکیا کہوں؟ سب کچھ تیرے سامنے ہی ہے کہ کیسے اپنی ہی ڈگری حاصل کرنے کے لیے کس قدر اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہمیں، جیسے ہم یہ ڈگری امتحان پاس کرکے نہیں بلکہ پیسے دے کر لے رہے ہوں۔ میں بھی تو دو ماہ سے تیرے ساتھ ہی خوار ہو رہا ہوں، مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں اپنے ہی ملک کو کوسنا شروع کردوں۔ طاہر، عاصم کے خیالات سے ہرگز متفق نہیں تھا۔ دو دن بعد آخری تاریخ ہے اسکالر شپ کے فارم جمع کروانے کی، اگر آج بھی ڈگری نہ ملی تو گئے کام سے، اللہ اللہ کرکے اس ملک سے نکلنے کا موقع مل رہا ہے اور میں یہ موقع کسی صورت بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ یار! ایسے بول رہا ہے جیسے تونے پی ایچ ڈی مکمل کرکے پاکستان واپس آنا ہی نہیں ہے۔ طاہر نے ہنستے ہوئے کہا۔ بالکل درست اندازہ لگایا ہے تو نے، میں اتنی جدوجہد پاکستان واپس آنے کے لیے نہیں کر رہا ہوں۔ عاصم نے سنجیدگی سے کہا۔

حلف نامہ جو جمع کرارہے ہو اُس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ میں اپنی تعلیم مکمل کرکے پاکستان واپس آؤں گا اور پانچ سال تک یہاں کے اداروں میں نوکری کروں گا، اُس کا کیا؟ وہ سب تو کاغذی کارروائی ہے، اُسے کون پوچھتا ہے، یار! اور جو ضمانت دینی ہے، وہ؟ طاہر کو اُس کی باتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ ہم پاکستان میں رہتے ہیں یار، یہاں بس جیب میں پیسہ ہونا چاہیے ہر مشکل حل ہوجاتی ہے۔ بس دعا کرو کہ کسی طرح مجھے یہ اسکالر شپ مل جائے، پھر نہیں میں دوبارہ پاکستان میں قدم رکھنے والا۔ کہیں بھی چلا جا، کہلائے گا تو آخر پاکستانی ہی ناں۔ طاہر کے لہجے میں اب طنز تھا۔ کب تک، آخر کب تک؟ صرف دوسرے ملک کا پاسپورٹ ملنے کی دیر ہے، پھر کونسا پاکستان اور کون پاکستانی، پھر یہ داغ بھی دھل جائے گا۔ داغ؟ کیا تیرے لیے پاکستانی ہونا ایک داغ ہے، آخرکیا خرابی ہے اس ملک میں؟

تمھارے پاکستان میں ڈھنگ کی کوئی نوکری نہیں، اور تو کہتا ہے کہ کیا خرابی ہے اس ملک میں۔ تیرے ابّو نے اپنی پوری ملازمت کے دوران ایک مرتبہ بھی رشوت نہیں لی، اور اُنہیں اس ایمانداری کا کیا صلہ دیا گیا؟ اُنہیں رشوت لینے کے جرم میں نوکری سے برخاست کر دیا گیا، اور تجھے اس ملک میں سب اچھا نظر آتا ہے۔ یہاں جس کے پاس جتنی زیادہ دولت ہے اُس کی اُتنی زیادہ عزت ہے۔ یہ ملک صرف طاقتوروں، دولتمندوں اور لٹیروں کو نوازتا ہے، ہمارے جیسوں کو تو اپنا حق لینے کے لیے بھی ایڑیاں رگڑنا پڑتی ہیں اور تجھے پھر بھی اس ملک میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔ عاصم جذباتی ہوگیا تھا۔ اس میں قصور پاکستان کا نہیں، ہمارا اپنا ہے۔ یہ ملک ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیوں سے حاصل کیا تھا، یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے ان قربانیوں کی قدر نہ کی۔ اگر ہم ٹھیک ہوجائیں تو یہ ملک خود بخود ہی جنت بن جائے گا۔ ابھی یہ بحث نہ جانے اور کتنی دیر چلتی کہ ایک ادھیڑ عمر کلرک نے آکر آواز لگائی، اپنی ڈگریاں ایڈمن آفس سے وصول کرلیں، اور دونوں اپنی بحث چھوڑ کر ایڈمن آفس کی طرف چل پڑے۔

عاصم کو اُس کی محنت سے حاصل کی ہوئی ڈگری بھی مل گئی اور امریکہ کی اسکالرشپ بھی، امریکہ پہنچ کر اُسے ایسا لگا جیسے وہ دوزخ سے نکل کر اچانک جنت میں آگیا ہو، بالکل ویسے ہی جیسا اُس نے ہمیشہ سے چاہا تھا، اُسے اپنی قسمت پر رشک آرہا تھا۔ وقت گزرتا گیا، طاہر نے پاکستان میں مقابلے کا امتحان پاس کیا اور پولیس کا محکمہ جوائن کرلیا، عاصم کی تعلیم کا بھی امریکہ میں آخری سال تھا، مگر اُس کا پلان کے عین مطابق پاکستان واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ یونیورسٹی میں عاصم کا ایک کلاس فیلو تھا جس کا نام جتندرکمار تھا، جتندر بھی انڈیا سے اسکالر شپ پر پڑھنے کے لیے آیا تھا۔ ایک دن عاصم کو یونیورسٹی کے کسی کام میں مدد کے سلسے میں اُس کے روم میں جانا پڑگیا۔  جتندر کے روم کا دروازہ تقریباََ کھلا ہی تھا، جب ایک دو مرتبہ دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود بھی جتندر باہر نہ آیا تو عاصم بغیر اجازت کے ہی اندر داخل ہو گیا۔ سامنے کا منظر عاصم کے لیے ناقابلِ یقین تھا، جتندر کمار زمیں پر جائے نماز بچھائے عشاء کی نماز پڑھنے میں مصروف تھا، ساتھ ہی ایک اسٹینڈ پر قرآن شریف رکھا تھا۔

آپ کب آئے؟ جتندر کی آواز نے سوچوں میں گم عاصم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ہاں۔۔۔ بس ابھی، کیا آپ نماز پڑھ رہے تھے؟ عاصم نے فوراََ ہی وہ سوال پوچھ ڈالا جس نے اسے پچھلے کچھ لمحوں سے مخمصے میں ڈال رکھا تھا۔ کیا آپ مسلمان ہیں؟ بھائی مسلمان ہوں تو نماز پڑھ رہا ہوں، جتندر نے کولڈ ڈرنک کا گلاس عاصم کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ آپ کا نام تو، الفاظ عاصم کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ میرا نام مسلمانوں والا نہیں، یہی ناں؟ دراصل یہ نام میرے بابا نے رکھا ہی اس وجہ سے تھا کہ مجھے اپنے نام کی وجہ سے کبھی کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ رکاوٹ؟ رکاوٹ کیسی؟ جتندر کی بات بالکل بھی عاصم کے پلّے نہیں پڑی تھی۔

بھائی آپ خوش قسمت ہیں کہ تقسیم کے وقت آپ کے بزرگوں نے پاکستان کا انتخاب کیا، اور ہمارے بڑے، وہ تو تھے ہی قیامِ پاکستان کے مخالف، ہمارے بڑوں نے بہت سے اور مسلمانوں کی طرح بھارت میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ مسلمانوں کے لیے تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ میرے بابا انجینئر تھے، مگر اپنی ساری زندگی ایک معمولی سے مکینک کی حیثیت سے کام کرتے گزار دی، اُنہیں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے نوکری نہیں ملی۔ میرے چچا یونیورسٹی میں پڑھتے تھے، ایک دن ساتھی طلباء سے کسی بات پربحث ہوگئی۔ اگلے ہی دن سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ اہلکار ہمارے گھر آئے اور چچا کوزبردستی اُٹھا کرلے گئے، چند دن بعد ہمیں اطلاع دی گئی کہ ہمارے چچا پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں مارے گئے ہیں ۔

تو اگر ہندوستان میں رہ کر ہندوستان کے خلاف اس طرح بولتا تو تجھے معلوم پڑجاتا کہ ہمارے بڑوں نے یہ وطن حاصل کرنے کے لیے اتنی قربانیاں کیوں دی تھیں، طاہر کے الفاظ عاصم کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ ابھی پچھلے دنوں ہی ہمارے محلے کی ایک مسلمان لڑکی کو چند اوباشوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کردیا. سب جانتے ہیں کہ ایسا کس نے کیا، اور اُن کا مذہب کیا تھا، گجرات کا ہندو مسلم فساد کسے یاد نہیں، میرے بابا نے میرا نام صرف اس لیے ہندؤں والا رکھ دیا تاکہ مجھے بھی اُن کی طرح مسلمان ہونے کی وجہ سے ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میرے بابا کا یقین تھا کہ اگر بھارت میں ہمارے لئے کچھ ہوتا تو محمد یوسف خان کو مشہور ہونے کے لیے دلیپ کمار نہ بننا پڑتا۔ جتندر کی بات ابھی جاری تھی مگر عاصم میں سننے کی مزید سکت نہیں تھی، وہ چپ چاپ اُٹھ کر کمرے سے باہر آگیا۔

screenshot-www express pk 2015-08-19 12-02-34 screenshot-www express pk 2015-08-19 12-03-07 screenshot-www express pk 2015-08-19 12-02-49

آج اُسے آزادی کا مطلب بھی سمجھ آ گیا تھا اور پاکستان کی اہمیت کا احساس بھی ہوگیا تھا۔ آج شعور کی آنکھ کھلی تو اُسے امریکہ میں بھی سب کچھ بدلا بدلا سا نظرآ رہا تھا، یہاں قانون کی بالادستی صرف اس وجہ سے ہے کیونکہ یہاں کے لوگ قانون کا احترام کرتے ہیں، اور ہم بھی صرف ان جیسے ملکوں میں آ کر ہی قانون کا احترام سیکھتے ہیں ورنہ پاکستان میں تو ہر چیز کا شارٹ کٹ ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اگر پاکستان میں ہم پر چھوٹا سا بھی ٹیکس نافذ کردیا جائے تو ہم سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ مگر یہاں ہمیں سب اچھا ہی نظر آتا ہے۔ ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکمرانوں کو تو ٹھہراتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان حکمرانوں کو منتخب کرکے ایوانوں میں بھی تو ہم خود ہی بھیجتے ہیں۔ میں آج جس مقام پر ہوں وہ بھی تو پاکستان کی وجہ سے ہی ہے، جس تعلیم کی بنیاد پر مجھے یہ اسکالرشپ ملا وہ بھی تو میں نے پاکستان میں رہ کر ہی حاصل کی تھی۔ عاصم کو سمجھ آ گیا تھا کہ ہم دوسروں سے پیچھے کیوں ہیں، ہماری اس حالت کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ ہم خود ہیں، ہمارے پیارے وطن نے تو ہمیں سب کچھ دیا مگر ہم ہی ناشکرے ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان میں صرف خامیاں ہی تلاش کیں۔

ابھی وہ ان سوچوں میں ہی گم تھا کہ پاکستان سے طاہر کا SMS آگیا، جشنِ آزادی مبارک۔ مجھے تو یاد بھی نہیں تھا کہ آج 14 اگست ہے، ان چار سالوں میں میں کتنا بدل گیا ہوں کہ اپنی آزادی کا دن بھی بھول گیا۔ اُسے اپنے آپ سے شرم آ رہی تھی۔ بس یار Phd تو کمپلیٹ ہوگئی ہے مگر یونیورسٹی والے کہتے ہیں کہ ڈگری دو ماہ بعد ملے گی، عاصم فون پر طاہر کو ہنستے ہوئے بتا رہا تھا۔ بس اِدھر ڈگری ملی، اُدھر میں اپنے ’’پاکستان‘‘ آنکھوں سے آنسو رواں تھے مگر دل سے بوجھ اُتر چکا تھا۔

’’پاکستان زندہ باد‘‘