کچھ بھی اصل نہیں ہے

366721-Nasa-1434356117-335-640x480

ثمان فاروق  پير 15 جون 2015

زمین سورج کے گرد گھومتی ہے لیکن اس کشش میں بھی ایسا توازن ہے کہ زمین سورج سے نہیں ٹکراتی بلکہ ایک مخصوص فاصلے پر رہتی ہے۔

ذرا ایک لمحے کو تصور کریں کہ ایک دن آپکو پتا چلے کہ آپکے اردگرد کچھ بھی اصل نہیں ہے۔ یہ دنیا اور اِس میں موجود سب رشتے ناطے آسمان پر چمکتا سورج ۔۔۔ چاند ستارے ۔۔۔ ندی میں بہتا پانی ۔۔۔ سب کسی سپر کمپیوٹر کا ڈیزائین کردہ شاہکار ہیں اور آپ اس میں موجود ویڈیو گیم کے کریکٹر ہیں جن کو ایک بڑی سی ٹی وی سکرین پر دیکھتے ہوئے کوئی باہر سے کنٹرول کررہا ہے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ کیا آپ اِس پر یقین کریں گے؟

صدیوں پہلے سے تمام الہامی مذاہب مثلاً یہودی، عیسائی اور پھر پچھلے چودہ سو سال سے مسلمان اس بات کا پرچار کرتے آئے ہیں کہ یہ دنیا اصل نہیں ہے۔اصل دنیا مرنے کے بعد شروع ہوگی یعنی اسوقت ہم جس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اسکو خواب کی کیفیت کہہ سکتے ہیں۔

اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ اس زندگی میں جو کچھ ہے وہ سب ’’کم تر‘‘ ہے اور اللہ پاک کے نزدیک اس دنیا کی حیثیت مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔ آخر ایسا کیوں کہا گیا ہے؟ اس بات کے بہت سے مذہبی پہلو اور جوابات ہوں گے لیکن آئیے ذرا اسکو سائنس کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔

حال ہی میں ناسا کے سائنسدانوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس پہلو کے کافی امکانات ہیں کہ یہ ساری دنیا اور کائنات جو ہمارے اردگرد پھیلی ہے دراصل کسی سپر کمپیوٹر کی چھوٹی سی ہارڈ ڈسک میں چلنے والا کوئی پروگرام ہو اور کوئی ہم سے بہت بہتر مخلوق اس سارے عمل کو کنٹرول کررہی ہو۔ یہ نظریہ سب سے پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ’’نک بوسٹروم‘‘ نے پیش کیا جسے فکشن کی دنیا میں کافی پذیرائی ملی حتیٰ کہ ہالی ووڈ میں اس موضوع کو لے کر اس پر ’’دی میٹرکس‘‘ اور ’’دی تھرٹین فلور‘‘ نامی کامیاب فلمیں بھی بنیں۔

لیکن اب پہلی بار ناسا کے سائنسدان اس نظریے کو کافی حد تک حقیقت کے قریب ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں، کیونکہ انکا کہنا ہے کہ ابھی تک اس کائنات میں کچھ ایسی باتیں ہیں جن کی سائنسی وجوہات کے مفروضے پیش کرتے ہوئے ہی دماغ کی چولیں ہل جاتی ہیں جبکہ انکو تجرباتی طور پر ثابت کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

تو یہ چیز اسی خیال کو تقویت دیتی ہے کہ جس طرح کوئی کمپیوٹر پروگرامر ایک کمپیوٹر گیم تخلیق کرتا ہے، جس میں آسمان، عمارتیں، پہاڑ، دریا اور کریکٹر تخلیق کرتا ہے۔ بالکل ویسے ہی ہماری یہ کائنات ہے۔ اس نظریے کو سائنسی طورپر ماننے والے اپنے نظریے کی تصدیق کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ دیکھیں یہ حیران کن نہیں ہے کہ انسان جب سے موجود ہے ہر چیز اسکے لیے اس کائنات میں کتنی مکمل اور ترتیب سے ہے۔

سورج کا زمین سے فاصلہ بالکل اتنا ہے جتنا ہونا چاہیئے۔ سورج زمین کو اپنی جانب کھینچتا ہے اور زمین سورج کے گرد گھومتی ہے لیکن اس کشش میں بھی ایسا توازن ہے کہ زمین سورج سے نہیں ٹکراتی ہے بلکہ ایک مخصوص فاصلے پر رہتی ہے۔ فضا میں گیسوں کی مقدار بھی بالکل توازن کے ساتھ ایسے ہے جیسا کوئی مزیدار کھانا پکانے کے لیے نپے تلے انداز میں مسالحے گن کر اور تول کر ڈالے جاتے ہیں، کچھ بھی کم زیادہ نہیں ہے اور کتنی حیرت کی بات ہے ہماری زمین پر لاکھوں جانداروں کی اقسام ہیں لیکن خلاء میں برسوں سے سائنسدان جھک مار رہے ہیں، ریڈیو سگنل خلا کے دور دراز وسعتوں میں بھیج رہے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے علاوہ خلا میں کسی اور شہ کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

اگر ہم اب تک خلائی مخلوق کو تلاش نہیں کر پائے تو کم ازکم خلائی مخلوق کو تو اب تک ہمیں تلاش کر ہی لینا چاہیئے تھا۔ اس کائنات میں بہت سے سیارے ہیں جو اپنے سورج سے اتنے ہی فاصلے پر ہیں جتنے فاصلے پر زمین اپنے سورج سے ہے لیکن خلاء کے کسی جانب، کسی کونے سے کسی دوسرے جاندار کا سراغ نہیں مل رہا ہے۔ اگر زمین پر خود بخود زندگی وجود میں آگئی تو باقی سیاروں پر بھی آجانی چاہئیے تھی لیکن اوپر آسمان پر اربوں کھربوں سیارے ویران بیابان پڑے ہیں اور ایک ہماری زمین ہے کہ اس پر سب کچھ اتنی ترتیب سے ہورہا ہے کہ لاکھوں جانداروں کی اقسام ہیں، پھر وہ فضا میں سانس لیتے ہیں، خوراک کھاتے ہیں لیکن نہ تو کبھی خوراک کے پیدا ہونے میں کوئی خاص مسئلہ درپیش آئی نہ فضا کی گیسوں کا کوئی توازن بگڑتا ہے اور سب سے حیران کن بات آپ گوگل پر Cosmic rays لکھ کرسرچ کریں تو آپکے مزید چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ یہ وہ شعاعیں ہیں جو دور دارز خلا سے ایک خاص رفتار اور خاص انرجی لیول کو برقرار رکھتے ہوئے آتی ہیں اور چاروں طرف سے زمین سے ٹکراتی ہیں۔ یہ شعاعیں کہاں سے آتی ہیں اور زمین سے ٹکرانے کا انکا مقصد اور اسکے زمین پر کیا اثرات ہوتے ہیں سائنسدان سمجھنے سے قاصر ہیں۔

البتہ اس پوری دنیا کو کمپیوٹر پروگرام سمجھنے والے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دراصل یہی وہ شعاعیں ہیں جن کے ذریعے اس سارے سسٹم کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔ حقیقت میں ہم خواب میں ہیں۔ خواب میں چاہے جو مرضی ہوجائے ہم امیر ہوجائیں یا غریب ہوجائیں اسکی حقیقت کچھ نہیں ہوتی، حقیقت تو وہ ہے جو آنکھ کھلنے کے بعد نظر آتی ہے۔ خواب میں جو کچھ ہوتا ہے اسکی کسی کو مکھی کے پَر جتنی بھی پرواہ نہیں ہوتی۔ حقیقت وہ ہے جو آنکھ کھلنے کے بعد نظر آئے گی اور آنکھ کب کھلے گی جب موت آئے گی اور پھر جب آپکی آنکھ کھلے گی تو ہم کہیں گے ۔۔۔ اُف تو یہ اصلیت تھی!

Advertisements