Daily Archives: August 14th, 2015

قومی ترانہ: دھن، شاعری اور تنازعات

55cca1eb67ea5

قیامِ پاکستان کے بعد 7 برس تک پاکستان کا کوئی قومی ترانہ نہ تھا۔ بس ترانے تھے جو مختلف سرکاری تقریبات پر گائے جاتے تھے۔ پاکستانی قیادت کو آئین بنانے میں جتنی دشواریوں کا سامنا تھا، اتنا ہی قومی ترانہ بنانے میں۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ رہی ہوگی کہ ترانہ کس زبان میں لکھا جائے، کیونکہ پاکستان کے اکثریتی علاقے مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان بولی جاتی تھی، جبکہ مغربی پاکستان میں 4 زبانیں یعنی سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو بولی جاتی تھیں، جبکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی زبانوں سے ہٹ کر اردو کو قائدِ اعظم محمد علی جناح صاحب کی جانب سے قومی زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس بات پر مشرقی پاکستان میں بسنے والے بنگالی خاصے معترض تھے۔

عقیل عباس جعفری اپنی کتاب ”پاکستان کا قومی ترانہ: کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟“ میں لکھتے ہیں کہ:

”4 اگست 1954 کو کابینہ کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں حفیظ جالندھری کے لکھے گئے ترانے کو بغیر کسی ردو بدل کے منظور کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اجلاس میں کابینہ نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ اس ترانے کی موجودگی میں اردو اور بنگالی کے دو قومی نغمات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔“

پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کے خالق کا انتقال 5 فروری 1953 کو ہوا، جبکہ قومی ترانے کی دھن اور ترانے کی منظوری 4 اگست 1954 کو ہوئی۔ انہیں اپنی زندگی میں یہ دن دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ ان کی اس خدمت کا اعتراف بھی ایک بڑے عرصے بعد کیا گیا۔ جمیل زبیری اپنی کتاب ”یاد خزانہ ریڈیو پاکستان میں 25 سال“ کے صفحہ نمبر 21 پر قومی ترانہ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:

”پاکستان کے قومی ترانے کی دھن محمد علی چھاگلہ (کتاب میں شاید پروف کی غلطی کی وجہ سے احمد غلام علی کی جگہ محمد علی لکھ دیا گیا ہے لہٰذا ہم نے من و عن لکھ دیا ہے) نے بنائی۔ اس کے بعد اس دھن پر ترانے لکھنے کے لیے ملک کے تمام شعراء کو مدعو کیا گیا اور سب سے بہتر ترانے کا فیصلہ کرنے کے لیے حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

“جب چھاگلہ کی بنائی ہوئی دھن ریڈیو پاکستان میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے سنی تو انہوں نے سب سے پہلے نہال عبداللہ کمپوزر وغیرہ کو بٹھا کر اس دھن کو موسیقی کی زبان میں ”بانٹا“ اور پھر اس پر سب سے پہلے ترانے کے بول لکھے۔ اسی دوران میں حفیظ جالندھری اور دیگر شعراء کے لکھے ہوئے ترانے موصول ہوگئے۔ سارے ترانے کمیٹی کے سامنے رکھے گئے اور کمیٹی نے حفیظ جالندھری کے ترانے کو منظور کر لیا۔

“کہتے ہیں کہ بخاری اس پر کافی ناراض ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے انہوں نے ترانہ لکھا۔ بہر حال کمیٹی کا فیصلہ حتمی تھا۔ اس کے بعد ریڈیو پاکستان کے انگریزی پروگراموں کی سپروائیزر مسز فیلڈ برگ (Feld Berg) نے اس کی orchestration کرنے اور notation تیار کرنے کے لیے لندن بھیج دیا۔ جب یہ چیزیں تیار ہو کر ترانہ واپس آیا تو ریڈیو پاکستان میں اس کی ریکارڈنگ ڈائریکٹر جنرل بخاری اور حمید نسیم نے مل کر کی۔ گانے والوں میں نہال عبداللہ، دائم حسین، نظیر بیگم، رشیدہ بیگم، تنویر جہاں، کوکب جہاں، اور چند دیگر فنکار شامل تھے۔ اس طرح ریڈیو پاکستان نے ملک کا قومی ترانہ تیار کیا۔“

http://https://r14—sn-q4f7dnsz.c.docs.google.com/videoplayback?lmt=1392241534092925&sparams=dur,id,ip,ipbits,itag,lmt,mime,mm,mn,ms,mv,pl,ratebypass,requiressl,source,upn,expire&ratebypass=yes&ipbits=0&key=yt5&upn=KtJN61OROIM&fexp=9406007,9406514,9406993,9407700,9408710,9409069,9412779,9412928,9415365,9415485,9416023,9416126,9417278,9417707,9418153,9418703,9418986&signature=91027268EABF620F8394B91F080B58C7EF99A3B7.4972D19A4254A4FDD243B6AE002F81E05E3400AD&itag=18&pl=26&mn=sn-q4f7dnsz&mm=31&source=youtube&dur=133.816&mime=video/mp4&ip=107.178.195.200&requiressl=yes&sver=3&expire=1439574636&mv=m&mt=1439552969&ms=au&id=o-AH_mNKWVYvb-J1hWtjkeNwjtuZ6mzxadwxE_N-P7IUlC&signature=95.85.24.225

.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کب ترتیب دی گئی؟ اور کیا اس سے پہلے بھی کوئی قومی ترانہ تھا یا نہیں؟ سینیئر صحافی نعمت اللہ بخاری کا کہنا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ان کے اسکولوں میں ترانے کے لیے علامہ اقبال کی مشہور نظم ”چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا، مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا“ پڑھی جاتی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکن اقبال علوی کا کہنا ہے ان کے دور میں اقبال کی مشہور نظم ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ پڑھی جاتی تھی۔ لیکن کیا کہیے کہ یہ دونوں نظمیں پاکستان کا قومی ترانہ نہ بن سکیں۔ عقیل عباس جعفری کے مطابق 1960 میں امین الرحمٰن نے ایک مضمون میں پاکستان کے قومی ترانے کی دھن تیار کرنے کا قصہ یوں بیان کیا ہے:

”1950 کے اوائل میں ایران کے جواں سال حکمراں رضا شاہ پہلوی شہنشاہِ ایران، حکومت کی دعوت پر پاکستان کے سرکاری دورے پر تشریف لائے۔ شہنشاہِ ایران کے استقبال کی تقریب پر رواج و آداب کے لحاظ سے ضروری تھا کہ معزز مہمان کا استقبال قومی ترانے سے کیا جائے۔ چنانچہ سرکاری طور پر پاکستان کے قومی ترانے کی ضرورت شدید طور پر محسوس کی گئی۔

احمد غلام علی چھاگلہ اس سے پہلے ہمارے پڑھے لکھے موسیقی داں طبقے میں ایک ماہرِ موسیقی کی حیثیت سے غیر معروف نہ تھے۔ اس تنگ وقت میں جناب چھاگلہ نے صحت کی خرابی کے باوجود شب و روز محنتِ شاقہ سے کام کیا اور آخر کار پاکستان کے قومی ترانے کے لیے ایک مناسب دھن مرتب کر ہی لی۔ جب شہنشاہ ایران پاکستان تشریف لائے تو ہمارے بحریہ کے بینڈ نے اس ترانے کو شہنشاہ ایران کے استقبال کے موقع پر بجایا، جو اسے سن کر بہت متاثر ہوئے۔“

پاکستان کا پہلا قومی ترانہ کس نے لکھا، اس حوالے سے گزشتہ ایک دہائی سے دانشوروں اور صحافیوں کے درمیان ایک جنگ چل رہی ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا، اس ضمن میں جگن ناتھ آزاد کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کے مطابق جناح صاحب نے انہیں یہ کام سونپا تھا کہ وہ پاکستان کا قومی ترانہ لکھیں۔ تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جگن ناتھ آزاد نے کہیں بھی اپنے ترانے کو ترانہ نہیں کہا۔ لیکن یہ ایک جنگ ہے جو تا حال جاری ہے۔

سینیئر صحافی نعیم احمد نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ: ”مجھے نہیں لگتا کہ جگن ناتھ آزاد کو جناح صاحب نے قومی ترانہ لکھنے کا کہا ہوگا، اگر ایسا ہوتا تو جگن ناتھ آزاد اس بات کو فخریہ بتاتے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جناح کو اردو شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا اور نہ ہی جگن ناتھ آزاد اور جناح صاحب کبھی کسی شہر میں یکجا رہے ہیں۔”

اگر نعیم صاحب کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کی کیا دلیل ہے کہ اردو سے ناواقف ہونے کے باوجود قائدِ اعظم کا اصرار تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی، حالانکہ سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں بسنے والے ان کی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بنگالی چاہتے تھے کہ پاکستان کا قومی ترانہ ایسا ہو جس میں بنگالی زبان کے الفاظ بھی شامل ہوں۔ لیکن ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

عقیل عباس جعفری اپنی مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 37 پر لکھتے ہیں کہ:

”ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ کے مطالعے اور ڈاکٹر صفدر محمود کی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات پایہء ثبوت کو پہنچتی ہے کہ 14 اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب ریڈیو پاکستان کی اولین نشریات میں جگن ناتھ آزاد کا کوئی نغمہ یا کوئی ترانہ شامل نہ تھا۔ ممکن ہے کہ جگن ناتھ کا تحریر کردہ نغمہ جسے وہ خود ترانہ اور ان کے مداحین قومی ترانہ کہنے پر مصر ہیں، بعد میں کسی اور وقت نشر ہوا ہو، مگر ابھی تک ریڈیو پاکستان کا کوئی ریکارڈ یا ریڈیو پاکستان سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی کوئی تحریر اس کی بھی تصدیق نہیں کر سکی ہے۔“

جمیل زبیری نے اپنی کتاب ”یاد خزانہ، ریڈیو پاکستان میں 25 سال“ کے ابتدائیے میں ایک انکشاف کیا ہے کہ سندھ کے پہلے ریڈیو اسٹیشن نے 4 اگست 1947 کو اپنے کام کا آغاز کیا۔ اس ریڈیو اسٹیشن کے قیام کا بنیادی خیال ایس کے حیدر نامی شخص کو تھا جن کی کراچی میں ریڈیو کی دکان تھی۔ انہوں نے اس سلسلے میں اے ایم چھاگلہ سے مشورہ کیا اس کے بعد وہ دونوں حکومتِ سندھ کے اس وقت کے ایک مشیر اڈنانی سے ملے اور کچھ پرانے ٹرانسمیٹروں کی مرمت کر کے تین کمروں پر مشتمل ایک ریڈیو اسٹیشن بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کا نام ”سندھ گورنمنٹ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن“ رکھا گیا۔ 10 اگست سے اس کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوگیا۔ 14 اگست 1947 کو اس اسٹیشن سے پاکستان کے قیام اور قائدِ اعظم کے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھانے کی کارروائی کا آنکھوں دیکھا حال نشر کیا گیا۔ اس ریڈیو اسٹیشن کی نشریات صرف دس روز جاری رہیں۔ 20 اگست 1947 کو اسے بند کر دیا گیا کیوں کہ وائرلیس ایکٹ کے تحت کوئی بھی صوبائی حکومت ریڈیو اسٹیشن نہیں چلا سکتی تھی۔“

کراچی کے حوالے سے معروف محقق گل حسن کلمتی اپنی کتاب ”کراچی کے لافانی کردار“ کے صفحہ نمبر241 پر لکھتے ہیں:

”ممکن ہے اسی تجرباتی ریڈیو اسٹیشن سے جگن ناتھ آزاد کا ترانہ بھی نشر کیا گیا ہو، لیکن اس بات کی تصدیق کرنے والوں میں سے اب کوئی بھی حیات نہیں۔ اس میں مزید تحقیق کی گنجائش ہے۔“

http://playit.pk/embed/Mz49Ww-jnMY

قومی ترانے کی دھن 1950 میں ترتیب دی گئی، لیکن اس قومی ترانے کی منظوری آزادی کے تقریباً 7 سال بعد 1954 میں ہوئی۔ چھاگلہ صاحب نے یہ دھن بنائی اور بڑی محنت سے بنائی۔ اس کا اندازہ دھن سنتے ہی ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اپنی زندگی میں اس دھن کی منظوری نہ دیکھ سکے اور نہ ہی اس حوالے سے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی اس بے بہا خدمت کا اعتراف کیا گیا۔ ان کی اس خدمت کے صلے کے لیے ان کے خاندان کو تقریباً 46 برس تک انتظار کرنا پڑا۔ گل حسن کلمتی اپنی کتاب ”کراچی کے لافانی کردار“ کے صفحہ نمبر 242 پر لکھتے ہیں کہ:

”آخرکار 43 سال بعد 1996 میں محترمہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں احمد علی چھاگلہ صاحب کو صدارتی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ یہ ایوارڈ چھاگلہ صاحب کے فرزند عبدالخالق چھاگلہ جو کہ امریکی ریاست ہیوسٹن میں مقیم ہیں، انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں 23 مارچ 1997 میں پاکستانی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی تقریب میں وصول کیا۔“ چلیں ”دیر لگی آنے میں تم کو، شکر ہے پھر بھی آئے تو“۔

حفیظ جالندھری کا انتقال 21 دسمبر 1982 کو ہوا۔ حکومتِ پاکستان حفیظ جالندھری کی اس خواہش پر ایک عرصے تک غور کرتی رہی کہ انہیں ان کی خواہش کے مطابق علامہ اقبال کے پہلو میں دفنایا جائے یا کہیں اور۔ معروف مؤرخ اور محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل کے مطابق حکومت پاکستان ان کی یہ آخری خواہش پوری نہ کر سکی۔ ابتداء میں انہیں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا۔ بعد ازاں مینارِ پاکستان کے باغ میں ان کا مقبرہ بنا کر انہیں وہاں دفن کیا گیا۔ یہ تھا پاکستان کے قومی ترانے کی دھن اور شاعری کا قصہ۔

اختر بلوچ سینیئر صحافی، لکھاری، اور محقق ہیں۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کونسل ممبر ہیں۔ وہ سوشیالوجی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

محبت دنیا کا سب سے خوبصورت جذبہ یا؟

محبت زندگی کا وہ جذبہ جسے متعدد افراد سب سے طاقتور جذبہ مانتے ہیں، ہم سب ہی اس کے خواہشمند ہوتے ہیں اور ہر جگہ آپ کو اس کا جلوہ نظر آتا ہے۔

مگر کیا محبت ایک نشہ ہوتی ہے؟ سائنس کے مطابق تو ایسا بالکل ممکن ہے درحقیقت محبت کی آگ سر سے لے کر پیروں تک محسوس ہوتی ہے اور آپ کو زیادہ گرمجوش اور اپنا ارگرد دھندلا دھندلا سا نظر آنے لگتا ہے۔

اور اس سے بھی بڑھ کر یہ آپ کے سوچنے اور اقدام کرنے کا انداز تک بدل کر رکھ سکتا ہے۔

تو محبت کے ایسے ہی انوکھے اثرات جانیے جو آپ کے جسم اور ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جن پر سائنس نے بھی مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

یہ آپ کو ہوا میں اڑا سکتی ہے

55ccd4baa7743

جب کوئی نیا نیا محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو انتہائی فرحت اور خوشی محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کا تعلق محبوب سے ہونے والی ملاقاتوں سے بالکل بھی نہیں ہوتا، ہے ناں عجیب بات مگر نیویارک کے البرٹ آئن اسٹائن میڈیکل کالج کے سائنسدانوں نے جب محبت کے گرفتار طالبعلموں کے دماغوں کا اسکین کیا تو معلوم ہوا کہ اس سے دماغ کا وہی نظام سرگرم ہوجاتا ہے جو کوکین لینے پر ہوتا ہے۔ اس سے محبت میں گرفتار شخص راحت محسوس کرنے لگتا ہے۔ تو یہ کوئی دیوانہ پن نہیں یہ تو ہمارے دماغ کی کارستانی ہے۔

محبت کرسکتی ہے آپ کو احمق

55ccd4b95cad0

محبت کم از کم آپ کو اپنے ارگرد کے ماحول سے بے خبر تو کر ہی دیتی ہے۔ 2013 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ محبت میں گرفتار ہوتے ہیں ان کے اندر کسی کام کو کرتے وقت زیادہ توجہ مرکوز کرنے اور اسے پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان کی مشکل اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب انہیں کوئی خاص وقت میں کام کرنا ہوتا ہے۔

محبت بنا دیتی ہے آپ کو خود غرض

55ccd4bc51222

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ دو بہترین دوست ایک لڑکی کو پسند کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں مگر محبت کے نام پر اس شدید نفرت کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟ کیا یہ آپ کو معلوم ہے؟ جریدے پرسنلٹی اینڈ سوشل سائیکولوجی بلیٹن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اس سوال کا جواب دماغی ہارمونز کے اس حصے میں چھپا ہوتا ہے جن کا تعلق جارحیت اور خودترسی سے ہے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب کوئی محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ اپنی محبوب یا محبوبہ کے قریب ہونے والے فرد کے حوالے سے جارحانہ رویے کا حامل ہوجاتا ہے۔ درحقیقت جب آپ کسی کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو یہ ہارمونز آپ کے دماغ کو حفاظتی جارحیت پر اکسانے لگتے ہیں اور آپ اپنے محبوب کے دفاع کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اب چاہے وہ رقیب ہو، کوئی پرتناﺅ واقعہ بلکہ اداسی تک میں۔

آپ خود کو سمجھنے لگتے ہیں ناقابل شکست

55ccd4bc2a542

کیا کبھی آپ کو حیرت ہوتی ہے کہ اپنے شریک حیات کو چھوتے ہی آپ کے جسم سے خارش کیسے غائب ہوجاتی ہے؟ نہیں یہ کوئی اتفاق نہیں۔ امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق محبت کے شدید جذبے سے متاثر ہونے والے دماغ کے مختلف حصے وہی ہوتے ہیں جنھیں کوئی درد کش دوا اپنا ہدف بناتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کسی تکلیف کے شکار ہیں تو بس محبوب کی تصویر کا جلوہ ہی آپ کے درد کو کم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے کیونکہ اس سے اعصابی سطح پر درد کو روکنے والے عصبی خلیے حرکت میں آجاتے ہیں جیسا کوئی دردکش گولی کا اثر ہوتا ہے۔

محبت میں گرفتار جوڑوں کے دل کی دھڑکن بھی ہوتی ہے یکساں

55ccd4bc734cd

مانیں یا نہ مانیں مگر محبت میں گرفتار جوڑوں کے دل بھی یکساں ردھم سے دھڑکتے ہیں۔ کم از کم امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں تو یہی دعویٰ سامنے آیا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق محبت میں گرفتار جوڑے جب ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوں تو ان کے سانس لینے کا عمل اور دل کی دھڑکن یکساں ہوجاتی ہے، چاہے وہ ایک دوسرے سے بات نہ کر رہے ہوں یا ہاتھ پکڑے ہوئے نہ ہوں۔ تحقیق کے مطابق ایسا اجنبی افراد کے ساتھ نہیں ہوتا۔

اپنے جیسے فرد کا نظارہ کردیتا ہے محبت کا جادو

55ccd4bbe8f09

لوگوں میں ایسی شخصیت کی محبت میں گرفتار ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جسے دیکھ کر انہیں اپنا آپ یاد آجائے۔ اب چہرے، بالوں یا آنکھوں کی رنگت بلکہ کئی بار تو کانوں کی ساخت میں بھی اپنی مماثلت کسی کو دیوانہ بنا دینے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔ اور جب ہی تو آپ کو کئی بار ایسے جوڑے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے جنھیں دیکھ کر پہلی نظر میں گمان گزرتا ہے کہ وہ تو بہن بھائی ہیں۔

محبوب کا دل جیتنے کا آسان نسخہ

55ccd4d94dc82

اگر تو آپ اپنی شریک حیات کا دل جیتنا چاہتے ہیں تو اسکا سب سے بہترین طریقہ ایک گرم چائے یا کافی کا کپ اپنے ہاتھ سے بناکر پیش کردینا ہے۔ ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ اپنی نصف بہتر کی پسند کا گرم مشروب خود بناکر پیش کردیں تو اس سے باہمی تعلق مضبوط اور محبت بڑھتی ہے۔اسی طرح بیویوں کیساتھ چائے یا کافی شیئر کرنا بھی کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔بھارت میں ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عمل الفاط کے مقابلے میں زیادہ بلند آہنگ ہوتا ہے جس سے کوئی بھی اپنی محبت کا اظہار کرسکتا ہے۔

محبت سے دور ہوجاتا ہے سردی کا احساس

55ccd4cfc9070

چاہے جانے کا احساس انسان کو اندر سے روشن اور دماغی سرگرمیوں کو بڑھا دیتا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق محبت کا جذبہ انسان کو دماغی طور پر مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی سرد موسم میں گرمی کا احساس دلاتا ہے۔ تحقیق میں مزید یہ امر سامنے آیا ہے کہ دوسرے سے قربت سے ہمارے اندر دماغی سرگرمیاں بڑھتی ہیں اور ایک جسم گرم رکھنے والے عنصر بھی سرگرم ہوجاتا ہے۔

محبت میں گرفتار مردوں کی رفتار ہوجاتی ہے سست

55ccd4bceda46

جب کوئی مرد کسی خاتون کیساتھ اپنی معمول کی رفتار سے آہستہ چل رہا ہو تو سمجھ لیں کہ وہ اس حسینہ کی محبت میں گرفتار ہے۔ سیٹل پیسیفک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق عام طور پر مرد خواتین کے مقابلے میں زیادہ تیز چلتے ہیں، کیونکہ چلنے کی رفتار سے ہی جسمانی تبدیلی اور توانائی کے اخراج کا اندازہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے بقول جب خواتین ساتھ ہو مرد اپنی رفتار کم کرلیتے ہیں مگر یہ بھی اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اس خاتون کی محبت میں گرفتار ہوں، اگر وہ دوست ہو تو اس کیلئے وہ اپنی رفتار میں کوئی کمی نہیں لاتے۔

محبت اندھی نہیں ہوتی

55ccd4bcce75d

کہا جاتا ہے کہ مرد ہمیشہ خواتین کی خوبصورتی پر متوجہ ہوتا ہے جبکہ صنف نازک اپنے شریک حیات کیلئے اعلیٰ سماجی طبقے کو ترجیح دیتی ہیں اور اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔ سنگاپور منیجمنٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق یہ خیال غلط ہے کہ محبت اندھی ہوتی ہے اور کسی خامی کو نہیں دیکھتی درحقیقت مرد نسوانی خوبصورتی کے دیوانے بنتے ہیں جبکہ خواتین کی نظر ہمیشہ اعلیٰ حیثیت مردوں پر ہوتی ہے۔

محبت کردیتی ہے لوگو ں کو موٹا55ccd4bcb9e30

محبت فاتح عالم جذبہ قرار دیا جاتا ہے مگر جی یہ تو آپ کو موٹا بھی بناسکتا ہے۔ ایک برطانوی سروے کے مطابق قابل اطمینان یا دلی تعلق لوگوں کو موٹاپے کی جانب مائل کردیتا ہے۔ سروے کے مطابق 62 فیصد افراد نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ محبت میں مبتلا ہونے کے بعد سے انکا جسمانی وزن کافی بڑھا تھا جبکہ 72 فیصد کے خیال میں وہ تو نہیں مگر ان کا محبوب ضرور موٹا ہوگیا ہے۔

جدید دور میں مرد ہونے لگے پہلی نظر میں کیوپڈ کے شکار55ccd4b8d1807

یہ بات تو اب سچ ہوگئی ہے کہ اس جدید دور میں حقیقی محبت تلاش کرنا آسان نہیں اور مرد حضرات تو ہر وقت کیوپڈ کے تیر کا ہدف بننے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک سروے نما تحقیق کے مطابق اب بیشتر افراد پہلی ملاقات میں ہی دل ہار بیٹھتے ہیں، خصوصاً مرد اس معاملے میں خواتین سے بہت آگے ہیں جن کی 29 فیصد اکثریت کسی بھی نئی خاتون سے ملتے ہی اپنا دل ہار بیٹھتی ہے۔

قائد ملت لیاقت علی خان کو امریکا نے قتل کروایا،امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ

348068-liaqatAliKhan-1429242937-395-640x480

اسلام آباد:  امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ری کلاسیفائیڈ کی جانے والی دستاویزات کے مطابق قائدملت لیاقت علی خان کو امریکانے افغان حکومت کے ذریعے قتل کروایا،امریکی منصوبے کے تحت افغان حکومت کے تیارکردہ قاتل کو 2 ساتھی ملزمان نے قتل کیااوردونوں معاون قاتل ہجوم نے روند دیے اس طرح قائدملت کاقتل ایک سربستہ رازبن گیا۔

یہ دستاویزات اگرچہ59سال پرانی ہیں مگرپاکستان کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی ان دستاویزات میں اس جرم سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایاگیاہے کہ امریکااس وقت ایران کے تیل کے چشموں پرنظررکھتاتھااوریہ بھی جانتاتھاکہ اس دورمیں ایران اورپاکستان کے تعلقات بہت زبردست ہیں اوران دنوں 1950-51میں افغانستان پاکستان کادشمن شمارہوتاتھا اور افغانستان واحدملک تھاجس نے پاکستان کوتسلیم نہیں کیا تھا۔

اس وقت امریکی صدرنے قائد ملت لیاقت علی خان سے سفارش کی تھی کہ اپنے قریبی دوستوں ایرانیوں سے کہہ کر تیل کے کنوؤں کاٹھیکہ امریکاکودلوا دیں اس پر لیاقت علی خان نے دو ٹوک جواب دیا کہ میں ایران سے اپنی دوستی کاناجائز فائدہ نہیں اٹھاناچاہتااورنہ ہی ان کے داخلی معاملات میں مداخلت کروں گا، اگلے روز امریکی صدرٹرومین کالیاقت علی خان کو دھمکی آمیز فون موصول ہواملیاقت علی خان نے جواب میں کہا کہ میں ناقابل خریدہوں اورنہ کسی کی دھمکی میں آنے والا ہوں ۔

یہ کہہ کر فون بند کر دیااور حکم دیا کہ آئندہ 24گھنٹوں کے اندر پاکستان میں امریکاکے جتنے طیارے کھڑے ہیں  وہ پرواز کرجائیں اور اپنے ملک کو واپس چلے جائیں، ادھر واشنگٹن ڈی سی میں اسی لمحے ایک میٹنگ ہوئی اورطے ہوا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان ہمارے کام کاآدمی نہیں ہے، امریکا نے پاکستان میں ایک کرائے کے قاتل کی تلاش  شروع کردی اس زمانے میں اس کاسفارتخانہ کراچی میں تھا جو پاکستان کادارالخلافہ تھا،امریکاکو پورے پاکستان میں کرائے کاایک قاتل نہیں مل سکا پھرواشنگٹن ڈی سی سے کراچی میں امریکی اورکابل کے سفارتخانے کوفون کیاکہ قاتل کوافغانستان میں تلاش کیاجائے۔

امریکا نے شاہ ظاہرشاہ کو یہ لالچ دیا کہ اگر تم لیاقت علی خان کا قاتل تیار کرلو تو ہم صوبہ پختونستان کوآزاد کرا لیں گے افغان حکومت تیار ہو گئی بلکہ 3آدمی ڈھونڈے، ایک توسیداکبر تھا جسے گولی چلانی تھی،2مزید افراد تھے جنھوں نے اس موقع پر سید اکبرکوقتل کر دیناتھاتاکہ کوئی نشان کوئی گواہ باقی نہ رہے اورقتل کی سازش دب کررہ جائے تو16اکتوبرسے ایک دن پہلے سیداکبراوراس کے وہ ساتھی جنھیں وہ اپنا محافظ سمجھتاتھا،تینوں راولپنڈی آئے۔ایک ہوٹل میں رکے  اورقبل از وقت کمپنی باغ میں اگلی صفوں میں بیٹھ گئے،سید اکبرنے دو نالی رائفل چھپارکھی تھی، لیاقت علی خان جلسہ گاہ آئے اور اپنے خاص اندازمیں کھڑے ہو کر کہا برادران ملت توسیداکبر نے اپنے کوٹ سے رائفل نکال کر2فائرکیے جو سیدھے بدقسمتی سے لیاقت علی خان کے سینے پر لگے ،ان کے آخری الفاظ یہ تھے خداپاکستان کی حفاظت کرے۔

ادھر سید اکبر کے جومحافظ بھیجے گئے تھے انھوں نے سید اکبرکوقتل کر دیا اور مشتعل ہجوم نے محافظوں اورسید اکبر کو پیروں تلے ایساروندھا کہ ہمیشہ کے لیے وہ سازش چھپ کررہ گئی،اب ڈی کلاسیفائی ڈاکومنٹس نے اس معاملے کوواضح کیاہے۔واضح رہے کہ نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے حوالے سے آج تک مختلف کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں لیکن 60سال بعد امریکی محکمہ خارجہ نے یہ سارے رازافشاکردیے ۔

قائد ملت لیاقت علی خان کو امریکا نے قتل کروایا،امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ

پاکستان میں ’قتل کی وارداتوں‘ کی پُراسرار کہانی

363440-Murder-1433402554-175-640x480

آج ایک سرسری اور غیر اہم خبر نے مجھے نجانے کیوں چند لمحوں کے لیے سکتے میں ڈال دیا۔ خبر کچھ یوں تھی کہ ایان علی کیس کے اہم گواہ اور کسٹم آفیسر چوہدری اعجاز کو گھر میں گھس کر قتل کردیا گیا۔ اگرچہ پاکستانیوں کے اعصاب اب کافی مضبوط ہو چکے ہیں اور ایک دو قتل کیا اب تو دھماکے میں اگر 30، 20 لوگ مارے جائیں تو عام سی بات ہی لگتی ہے۔

لیکن اِس خبر پر مجھے سکتہ اس لیے پر طاری ہوا کہ کسٹم آفیسر چوہدری اعجاز کے قتل کے بعد مجھے پورا یقین ہے کہ دوبارہ کبھی کوئی کسٹم آفیسر کسی ایان علی کو منی لانڈرنگ کرتے گرفتار نہیں کرے گا۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ کیس سیدھا سادہ ڈکیٹی کا کیس ہے، یعنی ’’نامعلوم‘‘ ڈاکووں کے خلاف مقدمہ درج ہوگا اور کیس بند ہوجائے گا۔ جی ہاں پاکستان میں قتل ہوتے ہیں پوری قوم قاتلوں کے بارے میں جانتی ہے لیکن پھر بھی کبھی یہ نہیں پتا چلتا کہ قاتل کون تھے۔ آپ شاید سوچیں کیا پاگلوں والا جملہ ہے کہ اٹھارہ کروڑ عوام قاتلوں کے بارے میں جانتی بھی ہے اور پھر بھی کبھی یہ نہیں معلوم چلتا کہ قاتل کون تھے؟ چلیں میں آپکو مثال دے کر سمجھاتا ہوں۔

عوام بھول گئی ہے حالانکہ چند سال پہلے ہی کی بات ہے کہ راجہ پرویز اشرف کے خلاف کیس میں کرپشن کے الزامات کی تحقیق کرنے والا تفتیشی افسر کامران فیصل کا قتل ہوا، جسے خودکشی قراردے کر کیس بند کردیا گیا حالانکہ کامران فیصل کے والد محترم دہائی دیتے رہے کہ میرا بیٹا خوکشی کیوں کرے گا؟ اس کے پاس خودکشی کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ بینظیربھٹو کا قتل ہوتا ہے لیکن افسوس اقوام متحدہ سے تحقیقات اور پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ حکومت گزرنے کے باوجود جیالے ابھی تک شرمندہ ہیں کیونکہ بی بی کے قاتل زندہ ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بے نظیر قتل کیس کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کا بھی قتل ہوجاتا ہے لیکن حتمی قاتلوں کا تعین آج تک نہیں کیا جاسکا۔ کراچی کی بلدیہ ٹاون فیکٹری میں آگ لگتی ہے 300 لوگ زندہ جل جاتے ہیں مگر قاتل ایک سربستہ راز بن کر رہ جاتے ہیں۔ لاہور ماڈل ٹاون میں پچھلے سال جون میں 20 کے قریب لوگ مارے جاتے ہیں، اس پر جوڈیشل کمیشن بھی بن جاتا ہے لیکن یہ پتا نہیں چلتا کہ گولی چلانے کے احکام کس نے دیے اور قاتل کون تھے۔ سابق صدر پاکستان مرحوم جنرل ضیاالحق کا طیارہ تباہ ہوجاتا ہے لیکن پاکستانی عوام کو کبھی پتا نہیں چلتا کہ پاکستان کے ایک صدر اور اِس سے بھی بڑھ کر پاک فوج کے سربراہ کا طیارہ اتنی ہائی لیول سکیورٹی کے باوجود کیسے تباہ ہوجاتا ہے؟ اور پھر قاتل اتنی ہائی لیول سکیورٹی میں ایسا شاندار منصوبہ بناتا ہے کہ پیچھے ذرا سا بھی کوئی نشان نہیں چھوڑتا۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل ہوجاتا ہے، ان کوتقریر کرتے ہوئے کوئی سید اکبر نامی مبینہ قاتل گولی مار کر شہید کردیتا ہے اور قاتل کو موقع پر موجود پولیس افسر پار لگادیتا ہے جس وجہ سے دہائیاں بیت جانے کے باوجود قاتلوں کا پتا نہیں چلتا۔ وہ تو اللہ پاک بھلا کرے امریکی محکمہ خارجہ کا جنہوں نے نصف صدی گزرنے کے بعد اپنی ری کلاسیفائیڈ کی جانے والی دستاویزات میں بتایا کہ قائد ملت لیاقت علی خان کو امریکا نے افغان حکومت کے ذریعے قتل کروایا، امریکی منصوبے کے تحت افغان حکومت کے تیارکردہ قاتل کو 2 ساتھی ملزمان نے قتل کیا اوردونوں معاون قاتل ہجوم نے روند دیے۔

 

معاملہ یہ ہے کہ ہر قاتل اپنے پیچھے نشان چھوڑتا ہے۔ اگر قتل کے حوالے سے اُس دور کے حالات و واقعات پر غور کیا جائے تو سمجھنے میں ہرگز مشکل نہیں ہوگی فلاں قتل کا فلاں شخص کو فائدہ ہوا، مگر ناجانے کیا وجہ ہے کہ اسکے باوجود تسلسل کے ساتھ قتل اور ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اگر آپ یوٹیوب پر جاکر سرچ کریں آپ کو پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والے قاتلوں کے انٹرویوز مل جائیں گے جو نام لے کر بتائیں گے کہ میں نے فلاں کے کہنے پر فلاں کو قتل کیا لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ سب ہونے کے باوجود قاتلوں کا پتا نہیں چلتا کہ قاتل کون ہیں؟

اِن حالات کو دیکھتے ہوئے دو ہی امکانات جنم لیتے ہیں۔ پہلا امکان تو یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پروفیشنل اور بہترین قاتل پاکستان میں پائے جاتے ہیں کیونکہ یہ جب کسی کوقتل کرتے ہیں اپنے پیچھے کوئی نشان نہیں چھوڑتے اور جب کوئی نشان نہیں چھوڑتے تو اِس لیے پکڑے بھی نہیں جاتے۔ دوسرا امکان یہ کہ سب سے نکمے اور نالائق تحقیقات افسر پاکستان میں پائے جاتے ہیں جو کسی ایک بھی قتل کی اصل وجہ اور قاتل تک پہنچنے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔

بات شروع ہوئی تھی کسٹم آفیسر چوہدری اعجاز کے قتل سے جو ایان علی کیس کے اہم گواہ بھی تھے اور اطلاعات یہ بھی موصول ہورہی ہیں کہ اُن کے ہاتھ مقدمے کے حوالے سے اہم ثبوت بھی ہاتھ آگئے تھے لیکن چونکہ وہ ڈاکووں کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں لہذا اُمید ہے کہ ایان علی جلد رہا ہوجائیں گی۔

نوٹ: جیل میں موجود افسران و اہلکاروں سے گزارش ہے کہ اگر ایان کو جیل میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر ثبوتوں کا انتظام کریں ورنہ پھر مت کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔screenshot-www express pk 2015-08-14 10-03-43

کچھ بھی اصل نہیں ہے

366721-Nasa-1434356117-335-640x480

ثمان فاروق  پير 15 جون 2015

زمین سورج کے گرد گھومتی ہے لیکن اس کشش میں بھی ایسا توازن ہے کہ زمین سورج سے نہیں ٹکراتی بلکہ ایک مخصوص فاصلے پر رہتی ہے۔

ذرا ایک لمحے کو تصور کریں کہ ایک دن آپکو پتا چلے کہ آپکے اردگرد کچھ بھی اصل نہیں ہے۔ یہ دنیا اور اِس میں موجود سب رشتے ناطے آسمان پر چمکتا سورج ۔۔۔ چاند ستارے ۔۔۔ ندی میں بہتا پانی ۔۔۔ سب کسی سپر کمپیوٹر کا ڈیزائین کردہ شاہکار ہیں اور آپ اس میں موجود ویڈیو گیم کے کریکٹر ہیں جن کو ایک بڑی سی ٹی وی سکرین پر دیکھتے ہوئے کوئی باہر سے کنٹرول کررہا ہے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ کیا آپ اِس پر یقین کریں گے؟

صدیوں پہلے سے تمام الہامی مذاہب مثلاً یہودی، عیسائی اور پھر پچھلے چودہ سو سال سے مسلمان اس بات کا پرچار کرتے آئے ہیں کہ یہ دنیا اصل نہیں ہے۔اصل دنیا مرنے کے بعد شروع ہوگی یعنی اسوقت ہم جس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اسکو خواب کی کیفیت کہہ سکتے ہیں۔

اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ اس زندگی میں جو کچھ ہے وہ سب ’’کم تر‘‘ ہے اور اللہ پاک کے نزدیک اس دنیا کی حیثیت مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔ آخر ایسا کیوں کہا گیا ہے؟ اس بات کے بہت سے مذہبی پہلو اور جوابات ہوں گے لیکن آئیے ذرا اسکو سائنس کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔

حال ہی میں ناسا کے سائنسدانوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس پہلو کے کافی امکانات ہیں کہ یہ ساری دنیا اور کائنات جو ہمارے اردگرد پھیلی ہے دراصل کسی سپر کمپیوٹر کی چھوٹی سی ہارڈ ڈسک میں چلنے والا کوئی پروگرام ہو اور کوئی ہم سے بہت بہتر مخلوق اس سارے عمل کو کنٹرول کررہی ہو۔ یہ نظریہ سب سے پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ’’نک بوسٹروم‘‘ نے پیش کیا جسے فکشن کی دنیا میں کافی پذیرائی ملی حتیٰ کہ ہالی ووڈ میں اس موضوع کو لے کر اس پر ’’دی میٹرکس‘‘ اور ’’دی تھرٹین فلور‘‘ نامی کامیاب فلمیں بھی بنیں۔

لیکن اب پہلی بار ناسا کے سائنسدان اس نظریے کو کافی حد تک حقیقت کے قریب ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں، کیونکہ انکا کہنا ہے کہ ابھی تک اس کائنات میں کچھ ایسی باتیں ہیں جن کی سائنسی وجوہات کے مفروضے پیش کرتے ہوئے ہی دماغ کی چولیں ہل جاتی ہیں جبکہ انکو تجرباتی طور پر ثابت کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

تو یہ چیز اسی خیال کو تقویت دیتی ہے کہ جس طرح کوئی کمپیوٹر پروگرامر ایک کمپیوٹر گیم تخلیق کرتا ہے، جس میں آسمان، عمارتیں، پہاڑ، دریا اور کریکٹر تخلیق کرتا ہے۔ بالکل ویسے ہی ہماری یہ کائنات ہے۔ اس نظریے کو سائنسی طورپر ماننے والے اپنے نظریے کی تصدیق کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ دیکھیں یہ حیران کن نہیں ہے کہ انسان جب سے موجود ہے ہر چیز اسکے لیے اس کائنات میں کتنی مکمل اور ترتیب سے ہے۔

سورج کا زمین سے فاصلہ بالکل اتنا ہے جتنا ہونا چاہیئے۔ سورج زمین کو اپنی جانب کھینچتا ہے اور زمین سورج کے گرد گھومتی ہے لیکن اس کشش میں بھی ایسا توازن ہے کہ زمین سورج سے نہیں ٹکراتی ہے بلکہ ایک مخصوص فاصلے پر رہتی ہے۔ فضا میں گیسوں کی مقدار بھی بالکل توازن کے ساتھ ایسے ہے جیسا کوئی مزیدار کھانا پکانے کے لیے نپے تلے انداز میں مسالحے گن کر اور تول کر ڈالے جاتے ہیں، کچھ بھی کم زیادہ نہیں ہے اور کتنی حیرت کی بات ہے ہماری زمین پر لاکھوں جانداروں کی اقسام ہیں لیکن خلاء میں برسوں سے سائنسدان جھک مار رہے ہیں، ریڈیو سگنل خلا کے دور دراز وسعتوں میں بھیج رہے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے علاوہ خلا میں کسی اور شہ کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

اگر ہم اب تک خلائی مخلوق کو تلاش نہیں کر پائے تو کم ازکم خلائی مخلوق کو تو اب تک ہمیں تلاش کر ہی لینا چاہیئے تھا۔ اس کائنات میں بہت سے سیارے ہیں جو اپنے سورج سے اتنے ہی فاصلے پر ہیں جتنے فاصلے پر زمین اپنے سورج سے ہے لیکن خلاء کے کسی جانب، کسی کونے سے کسی دوسرے جاندار کا سراغ نہیں مل رہا ہے۔ اگر زمین پر خود بخود زندگی وجود میں آگئی تو باقی سیاروں پر بھی آجانی چاہئیے تھی لیکن اوپر آسمان پر اربوں کھربوں سیارے ویران بیابان پڑے ہیں اور ایک ہماری زمین ہے کہ اس پر سب کچھ اتنی ترتیب سے ہورہا ہے کہ لاکھوں جانداروں کی اقسام ہیں، پھر وہ فضا میں سانس لیتے ہیں، خوراک کھاتے ہیں لیکن نہ تو کبھی خوراک کے پیدا ہونے میں کوئی خاص مسئلہ درپیش آئی نہ فضا کی گیسوں کا کوئی توازن بگڑتا ہے اور سب سے حیران کن بات آپ گوگل پر Cosmic rays لکھ کرسرچ کریں تو آپکے مزید چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ یہ وہ شعاعیں ہیں جو دور دارز خلا سے ایک خاص رفتار اور خاص انرجی لیول کو برقرار رکھتے ہوئے آتی ہیں اور چاروں طرف سے زمین سے ٹکراتی ہیں۔ یہ شعاعیں کہاں سے آتی ہیں اور زمین سے ٹکرانے کا انکا مقصد اور اسکے زمین پر کیا اثرات ہوتے ہیں سائنسدان سمجھنے سے قاصر ہیں۔

البتہ اس پوری دنیا کو کمپیوٹر پروگرام سمجھنے والے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دراصل یہی وہ شعاعیں ہیں جن کے ذریعے اس سارے سسٹم کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔ حقیقت میں ہم خواب میں ہیں۔ خواب میں چاہے جو مرضی ہوجائے ہم امیر ہوجائیں یا غریب ہوجائیں اسکی حقیقت کچھ نہیں ہوتی، حقیقت تو وہ ہے جو آنکھ کھلنے کے بعد نظر آتی ہے۔ خواب میں جو کچھ ہوتا ہے اسکی کسی کو مکھی کے پَر جتنی بھی پرواہ نہیں ہوتی۔ حقیقت وہ ہے جو آنکھ کھلنے کے بعد نظر آئے گی اور آنکھ کب کھلے گی جب موت آئے گی اور پھر جب آپکی آنکھ کھلے گی تو ہم کہیں گے ۔۔۔ اُف تو یہ اصلیت تھی!

قائم علی شاہ کی یاد میں

371369-CM-1435645987-206-640x480

گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا بیان پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کو ریفریجریٹر میں رکھ دیا جائے‘‘۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر اُن کے بیان سے اختلاف ہے کیونکہ سراج الحق صاحب شاید بھول گئے کہ ریفریجریٹر میں وہ چیز رکھی جاتی ہے جس کو دوبارہ استعمال کرنا ہو جبکہ قائم علی شاہ تو ’مکمل طور پر استعمال ہوچکے ہیں‘۔ سندھ کی عوام کے لیے جناب وزیراعلی کی بے تحاشہ خدمات نے آج مجھے مجبور کیا کہ اپنے قارئین کے ساتھ اِس عظیم چٹان شخصیت کے حالات زندگی شئیر کروں۔

تعارف :
قائم علی شاہ رمضان علی شاہ گیلانی کے گھر پیدا ہوئے۔ 1967 میں انھوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اب تیسری بار سندھ کے وزیراعلی کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور خدمت خلق میں مصروف ہیں ۔

کچی شراب اور قائم علی شاہ:
محترم قائم علی شاہ نے ایک بار کچی شراب پی کر مرنے والوں کی یاد میں فتوی دیا تھا کہ وہ سب شہید ہیں۔ حضرت کا فرمانا تھا کہ وہ سب معصوم لوگ تھے تھوڑا شوق پورا کرنے کے لیے پی کر مرگئے تو وہ بھی شہید کہلائے جا سکتے ہیں۔ حضرت قائم علی شاہ کی دوراندیشی ملاحظہ کیجئے کہ اُنہوں نے اپنے اس ننھے سے فتوی کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے شرابیوں کا پورا مقام وضع کردیا۔ یعنی کچی شراب پینے والا شہید ہوا تو غور کیجئے پکی شراب پینے والے کا رتبہ کتنا بلند ہوگا اور پھر شراب بیچنے والا ثواب کی جن منزلوں پر ہوگا اِس کا اندازہ حضرت قائم علی شاہ کی روحانی بصیرت ہی کرسکتی ورنہ میرے آپ جیسے گناہ گار کی نگاہ ان معرفت کی منزلوں تک کب پہنچ پاتی ہے۔

ذہانت:
قائم علی شاہ ذہانت میں بھی اپنی مثال آپ ہیں جس کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جیسی قومی جماعت نے وزارت اعلی کے منصب کے لیے ایک بار نہیں، دو بار نہیں بلکہ تین بار قائم علی شاہ کا انتخاب کیا۔ ظاہر ہے ہیرے کی قدر کوئی جوہری کرسکتا ہے۔ سندھ کی حکومت پیپلزپارٹی کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے لہذا اِس قدر بڑے منصب کے لیے کوئی نکمہ یا نالائق فرد کا انتخاب تو ناممکن تھا۔ سندھ کی وزرات کے لیے ایسے آدمی کا انتخاب ہونا تھا جو ذہانت اور خداداد انتظامی صلاحیتوں کا مالک ہو اور قائم علی شاہ کی سندھ کی وزارت اعلی پر موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان سے بڑھ کر ذہین و فطین اور انتظامی صلاحیتوں کا آدمی پیپلز پارٹی کے پاس موجود نہیں تھا، اگر ہوتا تو شاید قائم علی شاہ وزیراعلی سندھ نہ ہوتے۔

نیند کا بیان:
حضرت سائیں قائم علی شاہ چونکہ دن رات عوام کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں لہذا انہیں سونے کا وقت نہیں ملتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اُن کو مجبوراً کانفرنسز اورسرکاری تقریبات میں اپنی نیند پوری کرنا پڑتی ہے۔ اُن کے مخالفین اکثر اس بات کو لے کر بلاوجہ حضرت پرتنقید کرتے رہتے ہیں لیکن حضرت سائیں قائم علی شاہ نے کبھی ایسی تنقید کی پرواہ نہیں کی بلکہ وہ زور و شور سے عوام کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں اور سرکاری تقریبات میں نیند پوری کرلیتے ہیں ۔

نواز شریف کی قائم علی شاہ کو شاباش:
قائم علی شاہ کو انکی بے مثال خدمت پر نواز شریف ٹیلی فون کرکے شاباش بھی دے چکے ہیں۔ نواز شریف بذات خود قائم علی شاہ کے بہت بڑے مداح ہیں اور قائم علی شاہ سے متاثر ہو کر ہی انہوں نے ممنوں حسین کو صدر پاکستان بنایا تھا ۔

ہلاکتوں کی ذمہ دار وفاقی حکومت:
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون میں قطر ہسپتال کے حالیہ دورے پر حضرت سائیں قائم علی شاہ نے فرمایا کہ حالات مکمل کنٹرول میں ہیں اور کوئی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ اُن سے جب سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بارے میں پوچھا گیا تو جناب نے کہا کہ وہ گرمی سے نہیں بلکہ برین ہیمرج سے ہوئی ہیں۔ خدمت خلق کے سبب جناب کا دماغ کچھ تھکاوٹ کا شکار ہوگیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیراعلی صاحب کراچی کی آبادی بھول گئے۔ پہلے اُنہوں نے کہ شہر کی آبادی 20 لاکھ ہے، لیکن فوری طور پر اُن کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور فوراً تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ 20 لاکھ نہیں 20 کروڑ ہے۔ اُن کے اِن بیانات کے سبب ہم یہ اچھی طرح اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جناب پر اِس وقت کام کا کس قدر دباو ہے۔

تھر کے بارے حضرت کا سبق آموز قول:
گزشتہ سال تھر میں ہونے والی ہلاکتوں پر حضرت قائم علی شاہ نے فرمایا تھا کہ تھر میں ہلاکتیں قحط سے نہیں بلکہ غربت سے ہوئیں ہیں۔ حضرت سائیں کے اس سبق آموز بیان پر اکثر صاحبان علم نے عش عش کرتے ہوئے یہ تجویز دی کہ سائیں کو تھر میں دبا دیا جائے تاکہ وہاں ایک درخت اُگے اور اس پر بے شمار سائیں قائم علی شاہ اُگ آئیں کیونکہ پاکستان کی ترقی کے لیے ایک قائم علی شاہ کافی نہیں بلکہ پاکستان کو قائم علی شاہ جیسی شخصیات کی پوری لاٹ درکار ہے ۔

اختتامیہ:
سائیں قائم علی شاہ کی شخصیت تو ایسی ہے کہ ان پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں لیکن اپنی بات کا سراج الحق صاحب کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے یہیں اختتام کروں گا کہ اگر قائم علی شاہ کو ریفریجریٹر میں رکھ دیا گیا تو وہ کبھی نہ کبھی دوبارہ ریفریجریٹر سے باہر نکل آئیں گے لہذا بہتر ہے کہ انکو امریکی خلائی کمپنی ناسا کو بطور عطیہ پیش کردیا جائے کیونکہ ناسا والے مریخ پر انسانی بستی بسانے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ سائیں قائم علی شاہ نے جس طرح سندھ کی خدمت چلائی ہے، جس طرح تھر میں پانی اور خوراک کے چشمے بہائے ہیں اب ضروری ہے کہ مریخ بھی انکی خدمات سے مستفید ہو کیونکہ سنا ہے مریخ پر بھی پانی اور خوراک کی شدید قلت ہے۔ اس لیے سائیں کو فی الفور اُن کی کابینہ سمیت مریخ روانہ کیا جائے کیونکہ ایسی عظیم شخصیت پر صرف پاکستان کا ہی نہیں پوری دنیا کا بھی حق ہے لہذا پاکستانی عوام کو اس نیک مقصد کی خاطر چندہ بھی اکٹھا کرکے ناسا والوں کو دینا پڑے تو اس میں گریز نہیں کرنا چاہیئے ۔screenshot-www express pk 2015-08-14 09-55-38

(پاکستان ایک نظر میں) – گر شہادت ہے مطلوب تو پیجیے شراب!

294532-qaimalishah-1413012817-193-640x480

’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے شہر کراچی میں عیدالاضحی کے موقع پر زہریلی کچی شراب پینے سے اب تک32 افرادبے رحم موت کے مُنہ میں جا چکے ہیں۔ درجنوں افراد کی حالت تشویش ناک ہے اور درجنوں عُمر بھر کی معذوری اپنے مقدر میں لکھ چُکے ہیں، کوئی سماعت سے محروم ہو گیا ہے تو کوئی بینائی سے اور کوئی اب ساری عمر بولنے کو ترسے گااور کسی کو اب باقی مانندہ زندگی بستر پر ہی گزارنی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں اس طرح کے غیر اسلامی کام اکثر ہوتے رہتے ہیں، برائے مہربانی آپ اس پر شرمندہ مت ہوں۔ بہرحال اعلیٰ حکام کی جانب سے نوٹس لیے جا چکے ہیں، تحقیقات کا آغاز کر دیا گیاہے، متعلقہ علاقوں کے پولیس افسران کی معطلیوں کی خبریں بھی سننے میں آ رہی ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی شراب بیچنے والوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کریک ڈاؤن بھی شروع ہو چکاہے، مجرموں کو گرفتار بھی کیا جا رہا ہے اور کیفرِکردار تک پہنچانے کی یقین دہانی بھی کرائی جا رہی ہے۔ اِس زہر کو بیچ کرمالِ حرام کمانے کی ہوس میں مبتلا افراداور اِن کی پُشت پناہی کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنا دینے کی باتیں بھی آپ یقیناً سُن ہی رہے ہوں گے۔

حکامِ بالا کے بیانات اورکیے جانے والے اقدامات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ کچی شراب سے ہونے والی اموات کا آخری سانحہ ہو گا، اب کوئی درندہ کھلے عام یہ موت بیچ کر اپنی تجوریاں نہیں بھرسکے گا، اب کوئی ماں اپنے جوان بیٹے کو نہیں روئے گی، کوئی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر مرتا نہیں دیکھے گا، کوئی بیوی اپنے شوہر کی میت کے سامنے بیٹھ کراپنے ارمانوں کی موت کا ماتم نہیں کرے گی۔ کوئی بچہ اپنے باپ کی میت کو بے بسی سے گھر سے رخصت ہوتا ہوا نہیں دیکھے گا۔ اب گھر والوں کوبدنامی کے ڈر سے اپنے پیاروں کی موت کی اصل حقیقت چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔

مگر مجھے بے حد افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا، ایک ہفتہ پہلے بھی یہی سب کچھ ہو رہا تھا، ایک سال پہلے بھی یہی حالات تھے اور پانچ سال پہلے بھی، یہی اموات تھیں اور سب کچھ ٹھیک کردینے کے لیے کیے جانے والے یہی اقدامات۔ ایک مرتبہ پھر حکام کے بیانات صرف باتوں کی حد تک اور اقدامات صرف فائلوں کی حد تک ہوں گے، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر عملدرآمدنہ پہلے کبھی ہوا ہے نہ اب ہوگا، اِس گھناؤنے کاروبار کی پشت پناہی کرنے والے قانون کی گرفت سے با آسانی نکل جائیں گے، ذمہ دار پولیس افسران بھی بہت جلد بحال ہو جائیں گے، مجرم پہلے ملزم بنیں گے اور پھر گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث معاشرے کے باعزت شہری اور پھر باعزت طور پر بری ہو جائیں گے۔ اور پھر وہی پُرانی خبر ہوگی کہ،

’’ فلاں شہر میں اتنے افراد زہریلی شراب پینے سے موت کے منہ میں چلے گئے‘‘

مجھے اِس سانحے میں ہونے والی اموات کا دُکھ ضرور ہے مگر میری ہمدردیوں کا محور مرنے والوں کے وہ لواحقین ہیں جنہیں بے یارومددگار زمانے کی ٹھوکریں کھانے اور لوگوں کے طعنے سننے کے لیے چھوڑدیا گیاہے، مرنے والوں نے تو اس غلط راستے کا انتخاب کر کے اپنی موت کے پروانے پر خود دستخط کیے تھے، موت تو اُن کی طے تھی خواہ وہ آج زہریلی شراب پینے سے ہوتی یا کل جگر کے فیل ہوجانے سے۔ ترس تو مجھے اُس بیٹی پر آتا ہے جس کا رشتہ کل صرف اس بات پر ٹھکرا دیا جائے گا کہ وہ ایک شرابی باپ کی بیٹی ہے، رحم کے قابل تو وہ بوڑھا باپ ہے جس نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا ہے، جو لوگوں کی نظروں کا سامناصرف اس لیے نہیں کر سکتا کیونکہ اُس کا بیٹاشراب پینے کی وجہ سے مرا۔ دکھ تو اُس بیوہ عورت کی حالت کو دیکھ کر ہوتا ہے جس پر اپنے بچوں کی کفالت کا بوجھ آن پڑا ہے، اور اُسے یہ بوجھ اُٹھانے کے لیے پہلی بار گھر سے باہر نکلنا پڑ اہے۔ اور یہ سب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہو گا۔

محترم سید قائم علی شاہ صاحب صوبہ سندھ یعنی ’’باب الاسلام ‘‘کے وزیرِ اعلیٰ ہیں، زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کے لواحقین کی دلجوئی کرنا اُن کا اخلاقی فرض بھی ہے اور اُن کے منصب کی ذمہ داری بھی، اِس مرتبہ اُنہوں نے اپنی یہ ذمہ داری کیا خوب نبھائی ہے گویا کسی اور کو بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا، شاہ جی فرماتے ہیں کہ عیدالاضحی کے موقع پر زہریلی شراب پینے والے اپنے شوق پورے کررہے تھے وہ سب معصوم تھا اور مرنے والے سب شہید ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ شہید کبھی مرتا نہیں ہے اور زندوں کا ماتم کیسا؟ جب کوئی مرا ہی نہیں تو یہ واویلا کیسا؟ تحقیقات کس بات کی؟ اور کس بات کی کاروائی جب کچھ ہوا ہی نہیں ہے؟ شاہ جی ہم نے آپ کو یہ تو نہیں کہا کہ آپ اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دیں مگر آپ نے تو اتنے لوگوں کو شہادت کا درجہ دلا کر اِس سانحہ کا کریڈٹ ہی اپنے سَر لے لیا ہے۔

شاہ جی کے اس بیان نے سابق وزیرِاعلیٰ بلوچستان جناب اسلم رئیسانی کے اس تاریخی قول کی یاد تازہ کر دی کہ ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے، چاہے اصلی ہو یا نقلی۔‘‘
سُنا ہے کہ اسلم رئیسانی صاحب کے اس بیان کے بعد نقلی ڈگری بنا کر دینے والوں کی چاندی ہو گئی تھی۔ اب دیکھیں کہ قائم علی شاہ صاحب کے اس بیان کے بعد کیا ہوتا ہے ، ظاہر ہے کہ شہادت کی موت کون نہیں مرنا چاہتا۔ شاہ جی آپ سید زادے ہیں اوراللہ کے فضل سے ایک اُونچے منصب پر فائز بھی ہیں، مگر خداراکچھ بولنے سے پہلے کسی سے مشورہ ضرور کر لیا کریں۔ اللہ ہم سب کوآپ کی بیان کردہ شہادت کی موت مرنے سے محفوظ رکھے (آمین)۔

 screenshot-www express pk 2015-08-14 09-56-28

اُن کے لیے جو ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ سے انسانیت سیکھ رہے ہیں!

377641-bajrangi-1437632820-466-640x480بجرنگی بھائی جان دراصل ’’سلوپوائزانگ‘‘ فلم تھی جس میں دو قومی نظریے سمیت بے شمار پاکستانی نظریات کی دھجیاں بکھیری گئیں۔

screenshot-www express pk 2015-08-14 09-54-27

میں یہ بلاگ ان لوگوں کے لیے لکھ رہا ہوں جنہوں نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ اُس سے متاثر بھی ہوچکے ہیں یا پھر ہونے والے ہیں۔ کچھ صاحبان فلم دیکھنے کے بعد یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ اس فلم میں کیا برائی ہے؟ یہ فلم تو ’’انسانیت‘‘ سکھاتی ہے۔ تو ایسے دوستوں سے سوال یہ ہے کہ کیا اب ہمارے پاس انسانیت سیکھنے کے لیے فلم ہی رہ گئی ہے اور وہ بھی بھارتی؟

آپ یہ بات تسلیم کریں گے کہ تین گھنٹے کی فلم کسی بھی انسان کے زندگی بھر کے نظریات کو بدلنے یا انکی جڑیں ہلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ بجرنگی بھائی جان دراصل ’’سلوپوائزانگ‘‘ فلم تھی جس میں دو قومی نظریے سمیت بے شمار پاکستانی نظریات کی دھجیاں بکھیر کر میٹھے انداز میں زہر پاکستانی عوام کے ذہنوں میں انڈیل دیا گیا۔ ایک طرف ہندوستان کی ایک ایجنڈا فلم پاکستان میں چلائی جارہی تھی تو دوسری طرف پاکستانی فلم ’’بن روئے‘‘ کے خلاف ہندوستان میں مظاہرے ہورہے تھے کہ اِس پر پابندی لگائی جائے حالانکہ بن روئے مکمل طور پر ایک رومانوی فلم تھی۔

کسی بھی ملک کا میڈیا، نیوز چینلز اور ڈرامے اُس ملک کی سوچ، خارجہ پالیسی اور تاریخ کا مظہر ہوتے ہیں۔ ہندوستان کبھی وہ نظریات اور تاریخ اپنے بچوں کو نہیں پڑھائے گا جو پاکستان میں پڑھائی جاتی ہے اور نہ پاکستان ایسا خطرہ مول لینے کی جرات کرسکتا ہے۔ ایسے میں پھر دشمن ملک چور راستوں سے اپنے نظریات کا پرچار کرنے کی کوشش کرتا ہے مثلاً آپ مسلسل بجرنگی بھائی جان جیسی فلمیں اپنی نوجوان نسل کو دکھاتے رہیں جس سے ان کو یہ تاثر ملتا رہے کہ ہندوستان تو بہت رحم دل اور اچھا ملک ہے اور پھر کل کو جب یہ رحم دل ملک پاکستان پر حملہ کرے گا تو نوجوان نسل تذبذب کا شکار ہوگی کہ اپنی فوج کا ساتھ دے یا رحم دل ہندوستان کا۔

جبکہ ہندوستان کی رحم دلی کا یہ حال ہے کہ اگر کشمیر کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف 1982 سے بھی شروع کروں تو 1984 اور 1982 میں ہندوستان میں سکھوں کا قتل عام کیا گیا، گولڈن ٹیمپل کا واقعہ ہوا اور بے شمار سکھ خاندان ہجرت کرکے پاکستان آباد ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ بجرنگی بھائی جان کے مطابق پاکستان میں کوئی سکھ ہندو نہیں بستا ہے۔ پھر 1987 کا مشہور زمانہ ہاشم پورہ قتل عام جب 45 مسلمانوں کا اجتماعی اینکاؤنٹر کیا گیا تھا۔ اسکے بعد ایودھیا میں 1992 میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، پھر بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ ہوا۔ 1998 میں عیسایوں کا قتل عام کیا گیا۔ پھر 2002 میں گجرات میں نریندر مودی نے مسلمانوں کا بدترین قتل عام کیا اور کہا گیا ہم نے عورتوں اور مردوں سے برابری کا سلوک کیا اور دونوں کو ایک ہی طرح سے لٹکایا اور ایک ہی طرح سے جلایا۔ اسکے علاوہ 2008 میں ہونے والے مشہور زمانہ ممبئی حملوں کے بارے میں بھارت کے سرکاری افسر بھارتی سپریم کورٹ میں حلف نامے جمع کرواچکے ہیں کہ یہ بھارتی حکومت کا اپنا کام  تھا۔ اور 2008 میں پھر اڑیسہ اور منگلور میں عیسایوں کا قتل عام کیا گیا اور انکے کئی کلیسائوں کو تباہ کیا گیا۔ اس سے قطع نظر اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا جائزہ لیا جائے جس کے مطابق ہندوستانی فلمیں فحاشی کا مظہر ہوتی ہیں۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق بھارت میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی وجہ خود بھارتی فلمیں ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے ملک کی فلمیں اپنے پاکستان میں چلا کر اپنی نوجوان نسل کو یہ سکھائیں گے کہ ہندوستان امن کی فاختہ ہے جبکہ حقیقت میں ہندوستان دنیا میں اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہو۔ شکوہ ان لوگوں سے نہیں ہے جنہوں نے سینما جاکر پیسے خرچ کیے اور پڑوسی ملک کی ایک ’’ایجنڈا‘‘ فلم کو دیکھا بلکہ شکوہ تو ان سے ہے جنہوں نے تمام  قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس فلم کو پاکستان میں نمائش کی اجازت دی۔ میں سوچتا ہوں کہ کشمیر کا وہ عظیم رہنما بوڑھا سید علی گیلانی کیا سوچتا ہوگا جو کہتا ہے کہ

’’ہم نے کبھی دہلی میں چاند دیکھ کر عید نہیں منائی ہم عید تبھی مناتے ہیں جب پاکستان سے چاند دیکھنے کی خبر آتی ہے‘‘۔

میں سوچتا ہوں وہ کشمیری جن کے لاکھوں لوگ شہید ہوئے، خواتین کی عزت پامال ہوئی، جنہوں نے ’’افسپا‘‘ جیسے کالے بھارتی قوانین کے باوجود پاکستان کے جھنڈے لہرائے، جن کے بزرگوں اور بچوں نے بھارتی گولیوں کے سامنے پاکستان کے جھنڈے لہرائے، ہم انکو کیا جواب دیں گے؟

اگر ان باتوں کو بھی ایک طرف رکھیں اور صرف اِتنا سوچ لیں کہ یہ وہی بھارت ہے جس نے ابھی عید کے موقع پر ہی ہمارے 3 پاکستانیوں کو شہید کیا ہے۔ یہ وہی بھارت ہے جس نے پاکستان توڑنے کا اقرار کیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اُسی بھارت سے انسانیت سیکھنے کے درپے ہیں؟ دنیا میں سینکڑوں ممالک ہیں اور ان سینکڑوں ممالک ہر سال ہزاروں فلمیں ریلیز ہوتی ہیں جبکہ اب تو پاکستان خود بھی اچھی اور معیاری فلمیں بنارہا ہے تو پھر ہم صرف بھارت کے پیچھے ہی کیوں پڑے ہیں؟ آپ بھی سوچیں اور میں بھی سوچتا ہوں۔

’’میں پاکستان ہوں‘‘

382798-PakistanFlag-1439365406-763-640x480

میں پاکستان ہوں، میرے پیدا ہونے سے آج تک کی ایک بہت لمبی کہانی ہے۔ ایک کٹھن سفر ہے۔ میرے پیدا ہونے سے پہلے ہی میرا نام پاکستان رکھا گیا۔ 1947ء میں جب میرا جنم ہوا تو مفلوک الحال غریب کے بچے کی طرح میرے تن پہ کپڑے، پیٹ میں نوالے نہیں تھے۔ میرا بچپن اور لڑکپن ایسے ہی گزر گئے بلکہ اس حال میں مجھے کئی لڑائیاں بھی لڑنی پڑیں، جس کے مجھ کو زخم بھی آئے جن سے آج بھی خون رس رہا ہے۔

میری پیدائش پر جہاں خوشیاں منائیں گئیں تو وہیں لاکھوں قربانیاں بھی دی گئیں، کئی سہاگ اجڑے تو لاکھوں یتیم ہوئے۔ کئی بے گھر ہوئے، دربدر ہوئے۔ مجھے بچپن سے لیکر آج تک آئین کی زنجیروں میں جکڑنے کی کئی بار کوشش کی گئی، پہلے انگریزوں کا قانون لاگو کیا گیا۔ پھر 1949ء میں قرارداد مقاصد کے نام پر مجھے مولوی بنانے کی کوشش کی گئی، یہ بات جب سیکولر طبقے کو ہضم نہ ہوئی تو مجھے لادین ثابت کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ 1952ء اور 1956ء میں ایک بار پھر زنجیریں پہنائیں گئیں جو دو سال بعد ہی ٹوٹ گئیں۔

1962ء، 1973ء میں بھی آئین آئین کا کھیل کھیلا گیا، جن میں اب تک 21، 22 تبدیلیاں کردی گئیں لیکن آج تک اپنی روح کے حساب سے کبھی نافذ نہ ہو سکا۔ مجھ پر طرز حکمرانی کے بھی طرح طرح کے تجربے کیے گئے۔ کبھی جمہوری نظام لایا گیا تو کبھی فوجی چھتری تلے پناہ ڈھونڈی گئی، کبھی اسلامی سوشلزم کا سہارا لیا گیا تو کبھی خود ساختہ شریعت کا، میرے بیٹوں نے مجھ پر بندوق کے ذریعے اپنا حکم چلانے کی کوشش کی۔

screenshot-www express pk 2015-08-14 09-46-46

میں 68 سال کا ہوگیا ہوں، لیکن آج بھی غریب ہوں۔ آج بھی کمزور ہوں، بھلا کیوں؟ کبھی سوچا میرے بیٹو! میرے ساتھ جنم لینے والے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ میرے سے 2 سال بعد آپ کے ہمسائے میں جنم لینے والا چین جس کا دنیا مذاق اڑاتی تھی۔ جو مجھ سے کئی درجے کمزور تھا۔ کل تک مجھ سے بھیک مانگتا تھا۔ آج دنیا پر راج کرتا ہے۔ دنیا کے سب وسائل اس کے قدموں میں ہیں۔ کل دنیا جسے گونگا سمجھتی تھی آج وہ بولتا ہے دنیا سنتی ہے۔ میرا آج حال یہ ہے کہ پورا کا پورا بدن زخموں سے چور ہے۔ سندھ میں مہاجرازم اور قوم پرستی کا زہر اگلا جارہا ہے۔ بلوچستان میں آزادی کے نام پر گلے کاٹے جارہے ہیں۔ فاٹا میں مذہب کے نام پر بارود بچھایا گیا، مسجدوں، امام بارگاہوں میں جہاں محبت کے پھول ملتے تھے وہاں نفرت بیچی گئی۔ مذہب کو تجارت بنایا گیا۔

1947ء سے قبل ایک گورے انگریز کا غلام تھا آج کئی کالے انگریزوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہوں۔ معاشی طور پر سرمایہ دار گلا گھونٹ رہا ہے تو جاگیردار غریب کے بچوں کو اپاہج کر رہا ہے۔ ایسے گھناؤنے کام کیے جارہے ہیں کہ مجھے اپنا منہ چھپانا پڑ رہا ہے۔ یہاں آزادی ہے تو سود خوروں کو ہے۔ رشوت عام ہے، بھتہ خوروں، بدعنوانوں، جھوٹے، منافقوں، ذخیرہ اندوزوں، دہشتگردوں، کام چوروں، خوشامدی سیاستدانوں کو آزادی ہے۔ یہاں کی صحافت تجارت بن چکی، یہاں علم کی بولی لگتی ہے اور قلم بکتے ہیں۔ سیاست بدنام ہوچکی، غیرت بے نام ہوچکی، یہاں کی تجارت پیشہ پیغمبری نہیں رہی، تھانوں میں جائے تو انسان کپڑے بھی اتروا کر نکلتا ہے، یہاں کے پولیس والے سگریٹ کی ڈبیا کی خاطر اپنا ایمان فروخت کردیتے ہیں، استاد، استاد نہیں رہا اور شاگرد، شاگرد نہیں رہا۔ علم دینے والے صنعتکار بن گئے اور علم حاصل کرنے والے سردار بن گئے ہیں۔ یہاں غریبوں کے بچے راتوں کو بھوکے سوجاتے ہیں اور بڑے بڑے گھروں اور توندوں والے پوچھنا تک گوارہ نہیں کرتے۔ میرے بیٹے کیا اقبال نے میرے ایسے ہی مستقبل کا خواب دیکھا تھاٖ؟ آپ کے بابا قائد اعظم نے اسی دن کیلئے جدوجہد کی تھی؟

مجھے معلوم ہے میرے قیام کے دن تم سب جشن بھی مناؤ گے، میری عظمت میں گیت گاؤ گئے، جلسوں اور ریلیوں میں محبت کے بڑے بڑے دعوے بھی کرو گے۔ کوئی کہے گا کہ میں سب کو روٹی، کپڑا اور مکان دوں گا، کوئی کہے گا مجھے سپر پاور بنا دیا جائیگا۔ کوئی مجھے میل کچیل اتار کر نیا بنانے کی بات کرے گا، کوئی کہے گا میں رب اور رب کے نظام کو بھول چکا ہوں اور وہ مجھے دوبارہ کلمہ پڑھانے کی کوشش کرے گا۔ کوئی کہتا ہے کہ میرے مہاجر بیٹوں کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا، ہم ان کو انصاف دینگے، ٹی وی والے بھی ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر طرح طرح کی بڑھکیں ماریں گے۔

میں بھی مایوس نہیں کہ میرے بیٹے سرحدوں پر موجود ہیں۔ وہ مجھے بچائیں گے۔ وہی مجھے ترقی دینگے۔ انہوں نے ہی مجھے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے لڑ کر بچایا۔ اب بھی میرے لئے بن دیکھے دشمن کو جہنم میں جھونک رہے ہیں۔ مجھے فخر ہے ان ماؤں پر جو اپنے بیٹوں کی جدائی تو سہتی ہیں لیکن میرے خلاف اٹھنے والی آواز کو کبھی برداشت نہیں کرتیں۔ دنیا مجھے میرے روشن مستقبل کی نوید سنا رہی ہے، میں ایک روشن دلیل ہوں۔ میں اللہ کا انعام ہوں۔ میں پاک ہوں کیونکہ ’’میں پاکستان ہوں‘‘۔